وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انفراسٹرکچر، وزارت داخلہ کے ریگولیٹری مانیٹرنگ گرڈز اور قومی ثقافتی ورثے کے تزویراتی کوریڈورز سے سرکاری اراضی کے تحفظ اور ترقی کا تاریخی اور دور رس انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دارالحکومت کی تعمیر و ترقی کے لیے اسلام آباد میں نئے میوزیم پراجیکٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے جس کے تحت تقریباً 150 ایکڑ واگزار شدہ سرکاری زمین پر 8 جدید ترین عجائب گھر تعمیر کیے جائیں گے۔
23 اکتوبر 2026 کو ڈیش بورڈ لاگز پر موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ نے مالپور، احمد پور اور بارہ کہو میں ناجائز تجاوزات کے مینوئل لوپ ہولز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ احمد پور میں 108 کنال سرکاری اراضی پر دہائیوں سے غیر قانونی فارم ہاؤسز قائم تھے جنہیں یکسر بلاک کر کے زمین بحال کر دی گئی ہے۔ اس واگزار شدہ رقبے پر نیشنل ہیریٹیج میوزیم، ہسٹری میوزیم، آرمڈ فورسز میوزیم اور اسلامک میوزیم کی سائٹس کو الائن کر دیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی تاریخ کو محفوظ کیا جا سکے۔ محسن نقوی نے انتظامیہ اور میڈیا پر زور دیا کہ لینڈ گریبنگ کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
دارالحکومت کا ثقافتی گرڈ اور اراضی کی بحالی کے لازمی پیرامیٹرز
انتظامی مینیجرز کے مطابق اس سمارٹ ڈویلپمنٹ اسکرٹنی کا مقصد ثقافتی سیاحت کے لاگز کو متوازن بنانا ہے۔ اب بحال شدہ اراضی کی میپنگ اور لازمی ریگولیٹری پروٹوکولز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| پراجیکٹ لاگ کوڈ | منظور شدہ اراضی رقبہ | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| میوزیم انفرا گرڈ | 150 ایکڑ مجموعی رقبہ | تاریخ، اسلامی ورثے اور افواجِ پاکستان کے 8 مخصوص زونز قائم۔ |
| احمد پور لینڈ وال | 108 کنال واگزار اراضی | دہائیوں پرانے غیر قانونی فارم ہاؤسز اور تعمیرات یکسر ختم۔ |
| ثقافتی انڈیکس رول | پبلک پرائیویٹ مشترکہ ماڈل | وفاقی اراضی پر تجارتی کے مینوئل لوپس کا مکمل خاتمہ۔ |






