ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے پاکستان بھر کے طلباء کے لیے ایک بڑی خوشخبری سناتے ہوئے HEC آن لائن ڈگری اٹیسٹیشن کا روایتی اور پیچیدہ طریقہ کار ختم کر کے اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس (Paperless) کر دیا ہے۔ یچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے مطابق نئے ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم (DAS) کے بعد اب طلباء کو ڈگریوں کی تصدیق کے لیے ایچ ای سی کے دفاتر کے چکر لگانے یا اصل دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم (DAS) کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایچ ای سی نے بلاک چین (Blockchain) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو ڈگریوں کی تصدیق کے عمل کو تیز، محفوظ اور شفاف بناتا ہے۔ اس نظام کے تحت تمام عمل آن لائن مکمل کیا جائے گا جس سے انسانی مداخلت کم سے کم ہوگی اور جعل سازی کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔
اس سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلباء کو یکساں سہولیات میسر آ سکیں۔
ڈگری کی آن لائن تصدیق کا طریقہ کار
نئے سسٹم کے تحت طلباء کسی بھی وقت ایچ ای سی کے ای-سروسز پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کے مراحل درج ذیل ہیں:
اکاؤنٹ بنانا: طلباء کو سب سے پہلے ایچ ای سی کے پورٹل پر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔
معلومات کا اندراج: اپنی تعلیمی اسناد اور ذاتی تفصیلات پورٹل پر درج کریں۔
دستاویزات اپ لوڈ کرنا: اپنی ڈگریوں اور ٹرانسکرپٹس کی اسکین شدہ کاپیاں اپ لوڈ کریں۔
آن لائن تصدیق: اپ لوڈ کردہ دستاویزات کی ایچ ای سی اور متعلقہ یونیورسٹی دونوں آن لائن تصدیق کریں گے۔
فیس کی ادائیگی: ون لنک (OneLink) کے ذریعے آن لائن فیس جمع کرائیں، اب بینکوں میں لائن لگنے کی ضرورت نہیں۔
ڈیجیٹل ای-سرٹیفکیٹ اور ایس ایم ایس الرٹس
تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد نظام خودکار طریقے سے ایک ڈیجیٹل ای-سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جسے طلباء اپنے پورٹل سے ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔ درخواست گزار کو ہر مرحلے پر ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا جس سے شفافیت اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
یہ اقدام نہ صرف طلباء کے سفری اخراجات کو کم کرے گا بلکہ ان کے قیمتی وقت کی بھی بچت کرے گا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کا یہ ڈیجیٹل اقدام "ڈیجیٹل پاکستان” ویژن کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس اور اہم خبروں کے لیے Urdu Khabar کا وزٹ ضرور کریں۔






