حکومتِ پنجاب نے صوبے میں صنعتی انقلاب لانے اور تاجر برادری کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے ایک تاریخی اور بڑے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کے مطابق حکومتِ پنجاب بینک آف پنجاب (BOP) کے تعاون سے ایک بہت بڑی اور آسان قرضہ اسکیم شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) اور صنعت کاروں کو 100 ملین (10 کروڑ) روپے تک کا بلامنافع قرضہ (Interest-free Loan) فراہم کیا جائے گا جبکہ اربوں روپے کے بڑے قرضے انتہائی کم مارک اپ پر دستیاب ہوں گے۔
اس تفصیلی آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن (PSIC) اور بینک آف پنجاب کے اشتراک سے شروع ہونے والی اس اسکیم سے آپ کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس کی اہلیت کا معیار کیا ہے۔
اسکیم کا پس منظر اور حالیہ اعلان
صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے یہ اہم اعلان لاہور میں پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن (PSIC) ہاؤس میں سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت چیمبر کے صدر خواجہ یاسر قیوم کر رہے تھے جبکہ ملاقات میں پی ایس آئی سی کے مینجنگ ڈائریکٹر مبین الٰہی اور ڈائریکٹر پی بی آئی ڈاکٹر عمران ہاشمی بھی موجود تھے۔
ملاقات میں سرگودھا کی انڈسٹریل اسٹیٹ سمیت صوبے بھر کی صنعتوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کاروباری برادری کو مالی مدد فراہم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
300 ارب روپے کی آسان قرضہ اسکیم کا شیڈول
حکومتِ پنجاب اکتوبر 2026 میں بینک آف پنجاب کے تعاون سے 300 ارب روپے کی آسان قرضہ اسکیم (Easy Loan Scheme) کا باقاعدہ آغاز کرنے جا رہی ہے۔
مجموعی فنڈ: 300 ارب روپے
بلامنافع قرض کی حد: 100 ملین (10 کروڑ) روپے تک۔
بڑے قرضے: 10 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے بھی دستیاب ہوں گے لیکن ان پر انتہائی کم اور رعایتی مارک اپ وصول کیا جائے گا۔
قرض کے حصول کے لیے اہلیت اور کاروباری شعبے
یہ اسکیم بنیادی طور پر پنجاب کے صنعتی اور تجارتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ درج ذیل افراد اور ادارے اس اسکیم کے تحت بلامنافع قرضہ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے:
1۔ سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے یونٹس
پنجاب بھر میں قائم 23 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس (بشمول سرگودھا سمال انڈسٹریل اسٹیٹ جہاں اس وقت تقریباً 100 صنعتی یونٹس کام کر رہے ہیں) کے مالکان انفراسٹرکچر کی بہتری اور کاروبار بڑھانے کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔
2۔ رجسٹرڈ تاجر اور صنعت کار
وہ تمام کاروباری حضرات جو کسی بھی چیمبر آف کامرس یا مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور اپنے کاروبار کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔
3۔ برآمد کنندگان (Exporters)
ایسے کاروبار جو پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی مارکیٹ میں متعارف کروا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سرگودھا چیمبر اگلے مہینے اسپین اور جنوبی افریقہ میں "مینگو فیسٹیولز” کا انعقاد کر رہا ہے ایسے تمام برآمدی اقدامات کو حکومتِ پنجاب ترجیحی بنیادوں پر مالی تعاون فراہم کرے گی۔
اپلائی کرنے کا متوقع طریقہ کار
چونکہ یہ اسکیم اکتوبر 2026 میں باقاعدہ طور پر لانچ کی جائے گی، اس لیے اس کا طریقہ کار ڈیجیٹل اور آسان رکھا جائے گا
دستاویزات کی تیاری: امیدواروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کی رجسٹریشن، ٹیکس ریٹرنز اور چیمبر آف کامرس کی رکنیت کی دستاویزات ابھی سے تیار رکھیں۔
بینک سے رابطہ: اسکیم لانچ ہوتے ہی بینک آف پنجاب کی مخصوص برانچز یا پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے دفاتر سے درخواست فارم حاصل کیے جا سکیں گے۔
تحفظ کی یقین دہانی: وزیرِ صنعت نے تاجر برادری کو یقین دلایا ہے کہ اگر کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی طرف سے انہیں بلاوجہ ہراساں کیا گیا تو وہ خود صنعت کاروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے جس سے کاروباری ماحول مزید محفوظ ہوگا۔
پنجاب حکومت کی یہ بلامنافع قرضہ اسکیم صوبے کے تاجروں اور انڈسٹری کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہوگی۔ اکتوبر 2026 میں اس اسکیم کے باقاعدہ آغاز سے پہلے اپنے کاروباری دستاویزات اور پروپوزل تیار رکھیں تاکہ آپ بغیر کسی تاخیر کے اس بڑی مالیاتی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔






