صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کراچی کے گل پلازہ سانحے میں اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے شہریوں کو بچانے والے مایہ ناز فائر فائٹر فرقان علی شہید کے لیے قومی اعزاز تمغہ شجاعت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی مخلصانہ کوششوں کے بعد وفاقی حکومت نے اس بہادر سپوت کی لازوال قربانی، غیر معمولی جرات اور فرض شناسی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اس اعلٰی ترین ملکی سیکیورٹی میڈل کا مستحق قرار دیا ہے۔
شہید فرقان علی کون تھے اور ان کا خاندانی پس منظر
چھتیس (36) سالہ بہادر فائر فائٹر فرقان علی کے والد بھی فائر ڈیپارٹمنٹ کا حصہ تھے اور دورانِ سروس انتقال کر گئے تھے جس کے بعد فرقان علی نے سال 2028 میں متوفی کوٹہ (Deceased Quota) کے تحت کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کے فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ناظم آباد فائر اسٹیشن پر تعینات فرقان علی کی شادی تقریباً ڈیڑھ سال قبل ہوئی تھی اور ان کا ایک چھوٹا بچہ ہے جنہوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔
گل پلازہ سانحے میں فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر محمد فرقان کی بہادری کو قومی اعزاز مل گیا، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی سفارش پر صدرِ مملکت نے تمغہ شجاعت کی منظوری دے دی۔ قومی اعزاز 23 مارچ 2027 کی تقریب میں پیش کیا جائے گا https://t.co/xOBYMibkMp
— Aamir Ali Banbhan (@banbhanaamir) November 1, 2026
گل پلازہ کا ہولناک سانحہ اور ملبے تلے شہادت
کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کی رات کو ایک انتہائی ہولناک آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر 36 گھنٹوں کی طویل جدوجہد کے بعد 19 جنوری کی صبح قابو پایا گیا۔ اس خطرناک ریسکیو آپریشن کے دوران عمارت کی تپش اور دھویں کی پروا کیے بغیر فرقان علی اندر پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے داخل ہوئے جہاں چھت کا ایک بڑا حصہ گرنے کے باعث وہ ملبے تلے دب کر جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یہ سانحہ کراچی کی تاریخ کے مہلک ترین واقعات میں سے ایک تھا جس میں مجموعی طور پر اناسی (79) افراد جاں بحق ہوئے۔
فائر اسٹیشن کا نام اور اہل خانہ کے لیے مراعات
فرقان علی کی عظیم قربانی کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ان کی یاد میں ناظم آباد فائر اسٹیشن کا نام تبدیل کر کے شہید فرقان علی فائر اسٹیشن رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مزید برآں سندھ حکومت کی جانب سے شہید کے پسماندگان کے لیے ایک کروڑ (10 ملین) روپے کی فوری مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ان کی بیوہ اور بچے کو فرقان علی کی تنخواہ اور دیگر تمام سرکاری مراعات مستقل بنیادوں پر بلا تاخیر فراہم کی جاتی رہیں گی۔






