پنجاب کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ پنجاب کے ساتھ ایک بڑے نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر آپ پنجاب میں زمین یا جائیداد خریدنے، بیچنے یا منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اب آپ کو ایک نئی مگر انتہائی اہم دستاویز کی ضرورت ہوگی جسے ‘گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ حکومتِ پنجاب کا یہ اقدام جائیداد کے لین دین میں شفافیت لانے اور شہریوں کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو رہا ہے۔
پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر میں کسی بھی قسم کی جائیداد کی منتقلی اب اس سرٹیفکیٹ کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جو جائیداد فروخت کی جا رہی ہے وہ قانونی طور پر ہر قسم کے تنازع، بقایا جات اور ٹیکسوں سے پاک ہے۔
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟
یہ سرٹیفکیٹ دراصل ایک کلین چٹ ہے جو جائیداد کے مکمل بائیو ڈیٹا پر مشتمل ہوتی ہے۔ ماضی میں جائیداد کی خرید و فروخت کے وقت خریداروں کو اس بات کا خوف رہتا تھا کہ کہیں زمین کسی تنازع میں نہ ہو یا اس پر کوئی خفیہ بینک لون (Mortgage) نہ ہو۔ پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) کے مطابق اب یہ سرٹیفکیٹ ان تمام خدشات کو ختم کر دے گا۔
اس سرٹیفکیٹ کی ضرورت ان وجوہات کی بنا پر ہے:
قانونی تحفظ: یہ مالکِ جائیداد کی شناخت اور ریکارڈ کی مکمل تصدیق فراہم کرتا ہے۔
شفافیت: اس میں واضح کیا جاتا ہے کہ جائیداد پر کوئی قانونی کیس یا حکمِ امتناعی تو نہیں ہے۔
ٹیکس کی ادائیگی: جائیداد کے تمام بقایا جات اور سرکاری ٹیکسوں کی ادائیگی کا ثبوت اس میں شامل ہوتا ہے۔
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ اور فیس
حکومت نے ابتدائی طور پر اس سرٹیفکیٹ کے حصول کو آسان بنانے کے لیے ایک محدود مدت کے لیے صرف 900 روپے کی رعایتی فیس مقرر کی ہے۔ اس کے حصول کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
کیس کا آغاز: سائل کو سب سے پہلے PLRA کے پورٹل یا مرکز پر جا کر کیس فائل کرنا ہوگا۔
تصدیق کا عمل: پی ایل آر اے کا نظام ڈیجیٹل طور پر جائیداد کے ریکارڈ کا جائزہ لے گا۔
فیلڈ ویریفکیشن: محکمہ مال کے افسران موقع پر جا کر جائیداد کی حد بندی اور ملکیت کی جسمانی تصدیق کریں گے۔
سرٹیفکیٹ کا اجرا: تمام مراحل سے کلیئرنس ملنے کے بعد ‘گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ’ جاری کر دیا جائے گا۔
دھوکہ دہی کا خاتمہ اور پراپرٹی مارکیٹ میں اعتماد
اس نئے نظام کے تحت، جائیداد کے خریدار اب کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری بغیر کسی ڈر کے کر سکیں گے۔ حکومتِ پنجاب کا یہ ڈیجیٹل اقدام ‘قبضہ گروپ’ اور جعلی رجسٹریوں کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ سرٹیفکیٹ نہ صرف خریدار کو تحفظ دیتا ہے بلکہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو میں بھی اضافہ کرتا ہے کیونکہ ایک "گرین” جائیداد ہمیشہ سرمایہ کاروں کی پہلی پسند ہوتی ہے۔
مزید اہم خبریں اور تازہ اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar کا وزٹ ضرور کریں۔






