فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے دو نئے الگ الگ نوٹیفیکیشنز جاری کرتے ہوئے اسلام آباد کے دیہی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے خوبصورت شہر ایبٹ آباد کے لیے جائیداد کی نئی سرکاری قیمتوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ کسٹمز اور انکم ٹیکس قوانین میں جدت لانے کے اس اقدام کے تحت جائیداد کی قیمتوں کو اب وفاقی شیڈول کے بجائے ضلعی کلکٹر کے جاری کردہ ریٹس سے منسلک کر دیا گیا ہے، جبکہ ایبٹ آباد میں اوپن پلاٹس اور رہائشی و کمرشل تعمیرات کی نئی منصفانہ مارکیٹ ویلیو مقرر کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد کے دیہی علاقوں کے لیے نئی پالیسی کا نفاذ
ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن SRO 2061(I)/2026 کے تحت پچھلے نوٹیفیکیشن میں ترمیم کی گئی ہے۔ اب اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں پراپرٹی کی قیمتوں کا تعین وفاق کے فکسڈ شیڈول کے بجائے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) یا ڈسٹرکٹ کلکٹر اسلام آباد کی طرف سے وقت فوقت جاری کیے جانے والے ریٹ ٹیبلز کے مطابق کیا جائے گا۔ اس اقدام سے جائیدادوں کی ٹیکس ویلیویشن کو مقامی مارکیٹ کے اصل ریٹس کے مطابق لانے میں مدد ملے گی۔
ایبٹ آباد میں رہائشی اور کمرشل پلاٹس کے نئے ریٹس
دوسرے نوٹیفیکیشن SRO 2060(I)/2026 کے تحت، جو کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 68 کے تحت جاری کیا گیا ہے ایبٹ آباد میں پراپرٹی کے ریٹس کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نئے ریٹس کے مطابق رہائشی اور کمرشل اوپن پلاٹس کی قیمتیں درج ذیل ہیں:
رہائشی پلاٹس کے ریٹس
مائن بازار، صدر بازار، جناح مسجد بازار، صرافہ بازار، گردوارہ گلی اور کچہری روڈ پر رہائشی پلاٹ کی قیمت 12 لاکھ 50 ہزار روپے فی مرلہ مقرر کی گئی ہے۔
ایبٹ آباد بازار میں یہ ریٹ 9 لاکھ 70 ہزار روپے جبکہ اقبال روڈ پر 8 لاکھ روپے فی مرلہ مقرر کیا گیا ہے۔
کمرشل پلاٹس کے ریٹس
ایبٹ آباد کے مین بازار اور اس کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں کمرشل پلاٹ کے ریٹس سب سے زیادہ یعنی 58 لاکھ روپے فی مرلہ تک پہنچ گئے ہیں۔
ایبٹ آباد بازار میں کمرشل ریٹ 44 لاکھ روپے اور مانسہرہ روڈ (فوّارہ چوک سے میاں جی ہوٹل تک) 40 لاکھ روپے فی مرلہ طے کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، جناح آباد میں 31 لاکھ روپے، حویلیاں بازار اور نتھیا گلی مین روڈ پر 30 لاکھ روپے، جبکہ کالج روڈ منڈیاں، کومسیٹس روڈ، مری روڈ اور چانگلا گلی میں یہ ریٹ 25 لاکھ روپے فی مرلہ مقرر ہوا ہے۔
تعمیر شدہ جائیدادوں پر ٹیکس
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں پہلی بار تعمیر شدہ رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کے لیے عمارت کی عمر کے لحاظ سے زمین کی اصل قیمت کے اوپر اضافی ریٹس متعارف کروائے گئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
| عمارت کی عمر (Building Age) | اضافی ریٹ فی اسکوائر فٹ (Rate Per Sq. Ft.) |
| 5 سال تک پرانی عمارتیں | 2,000 روپے |
| 5 سال سے زائد اور 10 سال تک پرانی عمارتیں | 1,000 روپے |
| 10 سال سے زائد پرانی عمارتیں | 500 روپے |
ایف بی آر کے پراپرٹی ریٹس میں یہ ترمیم بورڈ کے اس سلسلے کا حصہ ہے جس کے تحت اس سے قبل اسلام آباد کے شہری علاقوں میں پراپرٹی ویلیویشنز میں 30 فیصد تک کمی کی گئی تھی اور پنجاب کے پانچ بڑے شہروں میں بھی ریٹس کو ریشنلائز (کم) کیا گیا تھا تاکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس کے نظام کو متوازن بنایا جا سکے۔






