فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے 01 نومبر 2026 کو اپنی ایف بی آر ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) کو باضابطہ طور پر اپڈیٹ کرتے ہوئے ان تمام افراد اور کمپنیوں کے نام خارج کر دیے ہیں جو 31 اکتوبر کی آخری تاریخ تک اپنے انکم ٹیکس گوشوارے یا توسیع کی درخواست جمع کرانے میں ناکام رہے تھے۔ ایف بی آر نے ٹیکس سال 2026 کے ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں دو بار توسیع کی تھ لیکن اس بار حکومت نے مزید مہلت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
لیٹ ایکسٹینشن کی درخواستیں اور ان ایکٹو اسٹیٹس
سرکاری تفصیلات کے مطابق جن ٹیکس دہندگان نے آخری تاریخ کی رات تاخیر سے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 119 اور 114 کے تحت تاریخ میں توسیع کی درخواستیں جمع کرائی تھیں اور وہ ابھی تک منظوری کی منتظر ہیں انہیں بھی نئی لسٹ میں عارضی طور پر ‘ان ایکٹو’ یعنی نان فائلر ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسے تمام افراد کا فائلر اسٹیٹس اب متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے توسیع کی درخواست منظور یا مسترد کیے جانے کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔
نان فائلر بننے کے نقصانات اور دوبارہ بحالی کا طریقہ
اگر آپ کا نام اس لسٹ سے نکال دیا گیا ہے تو اب آپ کو قانونی طور پر نان فائلر تصور کیا جائے گا جس کے نتیجے میں بینکوں، پراپرٹی رجسٹری دفاتر، اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے آپ پر دگنا ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا۔ اگرچہ سائلین اب بھی آئرس (IRIS) پورٹل کے ذریعے اپنے گوشوارے جمع کرا سکتے ہیں لیکن لسٹ میں نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے سیکشن 182 اے کے تحت بھاری جرمانہ (سurcharge) ادا کرنا ہوگا جو کہ درج ذیل ہے:
انفرادی ٹیکس دہندگان (Individuals): پچیس ہزار (25,000) روپے
ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOPs): پچاس ہزار (50,000) روپے
رجسٹرڈ کمپنیاں (Companies): ایک لاکھ (100,000) روپے
اس کے علاوہ لیٹ فائلرز اپنے ٹیکس ریفنڈز (رقم کی واپسی) حاصل کرنے کے حق سے محروم ہو جائیں گے اور انہیں رواں سال کے کاروباری نقصانات کو اگلے سال فارورڈ کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔






