پاکستان میں تاجروں اور امپورٹرز کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے ایک بڑی اور اہم ترین خبر سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے کسٹمز قوانین کی خلاف ورزیوں، امپورٹڈ مال کی ڈیکلیریشن میں تاخیر اور بندرگاہوں سے سامان بروقت نہ اٹھانے پر جرمانوں کی رقم میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن ایس آر او 136(I)/2026 کے تحت کسٹمز قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں پر اب زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ (1 ملین) روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ اس سخت اقدام کا مقصد بندرگاہوں پر سامان کی طویل اسٹوریج کا خاتمہ کرنا، کسٹمز آپریشنز کو تیز بنانا اور ملکی ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔ جرمانوں کے اس نئے شیڈول کا باقاعدہ اطلاق 1 اکتوبر 2026 سے ہوگا جو کہ جولائی 2025 کے پرانے رولز کی جگہ لے گا۔
سامان کی ڈیکلیریشن (GD) میں تاخیر پر روزانہ کے حساب سے نئے جرمانے
نئے کسٹمز ایکٹ ترمیم کے مطابق اگر کوئی امپورٹر کسٹمز اسٹیشن پر سامان پہنچنے کے 20 دنوں کے اندر ہوم کنزمپشن، ویئر ہاؤسنگ یا ٹرانس شپمنٹ کے لیے سامان کی ڈیکلیریشن (GD) فائل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس پر درج ذیل طریقہ کار کے تحت بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا:
پہلے 5 دن کا جرمانہ: ابتدائی 5 دنوں کے لیے 25,000 روپے روزانہ کے حساب سے جرمانہ ہوگا۔
اگلے دنوں کا جرمانہ: 5 دن گزرنے کے بعد یہ رقم بڑھا کر 50,000 روپے روزانہ کر دی جائے گی۔
آخری حد : یہ روزانہ کا جرمانہ اس وقت تک بڑھتا رہے گا جب تک کہ یہ اپنی آخری حد یعنی 10 لاکھ روپے تک نہ پہنچ جائے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یہ فیصلہ اس لیے بھی کیا گیا کیونکہ حال ہی میں ایک نجی کمپنی کی جانب سے دانستہ طور پر کسٹمز دستاویزات میں تاخیر کر کے فائدہ اٹھانے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔
بحری جہاز کے لنگرانداز ہونے سے پہلے اور بعد کے جرمانوں کی تفصیل
ایف بی آر (FBR) نے ان امپورٹرز کے لیے بھی کڑے قوانین وضع کیے ہیں جو جہاز کے بندرگاہ پر آنےسے پہلے ہی جی ڈی (GD) فائل کر دیتے ہیں لیکن ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی ادائیگی کے باوجود کسٹمز اسٹیشن سے 5 دن کے اندر سامان نہیں اٹھاتے:
برتھنگ سے پہلے فائلنگ پر جرمانہ: اس صورت میں اسسمنٹ مکمل ہونے کے بعد اگلے 5 دن تک 15,000 روپے روزانہ اور اس کے بعد 20,000 روپے روزانہ جرمانہ ہوگا جس کی حد 10 لاکھ روپے مقرر ہے۔
برتھنگ کے بعد فائلنگ پر جرمانہ: اگر جی ڈی بحری جہاز کے لنگرانداز ہونے کے بعد فائل کی گئی ہو اور کلیئرنس کے باوجود 5 دن تک مال نہ اٹھایا جائے تو پہلے 5 دن کے لیے 10,000 روپے روزانہ اور پھر 20,000 روپے روزانہ کٹوتی ہوگی۔ اس کی زیادہ سے زیادہ حد بھی 10 لاکھ روپے ہی ہوگی۔
ایکسپورٹرز اور کسٹمز کلیئرنس کے لیے نئی ہدایات
یہ نئے قوانین صرف امپورٹ تک محدود نہیں ہیں بلکہ ملکی برآمدات پر بھی یکساں لاگو ہوں گے۔ ایسے برآمد کنندگان جن کا سامان پورٹ کے اندر داخل ہونے کے 15 دنوں کے اندر متعلقہ جہاز یا ٹرانسپورٹ پر لوڈ نہیں ہوگا ان پر بھی بھاری چارجز عائد ہوں گے۔ ایسے سامان پر پہلے 5 دن کے لیے 5,000 روپے روزانہ اور اس کے بعد 15,000 روپے روزانہ جرمانہ چارج کیا جائے گا جس کی زیادہ سے زیادہ حد 10 لاکھ روپے ہی رہے گی۔
ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق یہ تمام جرمانے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت باقاعدہ قانونی کارروائی یا رضاکارانہ طور پر جمع کرائے گئے ڈپازٹ کے ذریعے وصول کیے جائیں گے۔ تمام کاروباری حضرات اور کلیئرنگ ایجنٹس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 1 اکتوبر سے پہلے اپنے کسٹمز معاملات کو درست کر لیں تاکہ اس بھاری مالی نقصان سے بچ سکیں۔






