پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی صفِ اول کی اداکارہ درفشاں سلیم (Durefishan Saleem) ان دنوں درفشاں سلیم کے وائرل اسکنڈل کے باعث سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث اور تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ڈرامہ سیریل ‘عشق مرشد’ اور ‘کیسی تیری خود غرضی’ جیسے بلاک بسٹر پروجیکٹس سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی اداکارہ پر ان کی ایک سینیئر ساتھی اداکارہ نے غیر پیشہ ورانہ رویے کا الزام عائد کیا ہے۔
سینیئر اداکارہ ارم اختر کا وائرل انٹرویو اور الزامات
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سینیئر پاکستانی اداکارہ ارم اختر (Erum Akhtar) نے ایک نجی ٹی وی شو میں شرکت کی۔ ارم اختر جنہوں نے درفشاں سلیم کے ساتھ ڈرامہ سیریل ‘سانول یار پیا’ میں کام کیا ہے نے شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے مبینہ مسائل پر کھل کر بات کی۔
ارم اختر نے اپنے انٹرویو میں الزام لگایا کہ:
ڈرامے کے مرکزی کرداروں (جن میں انہوں نے درفشاں سلیم کا نام لیا) کے غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے شوٹنگ کا شیڈول شدید متاثر ہوا۔
اداکارہ کی ذاتی مصروفیات جیسے اچانک عمرے پر چلے جانا اور رمضان کا شیڈول بار بار شوٹنگ کینسل ہونے کا سبب بنے۔
ان تاخیرات کی وجہ سے دیگر کاسٹ اور عملے کا وقت اور تاریخیں ضائع ہوئیں جس سے سب کو شدید ذہنی اور پیشہ ورانہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ارم اختر کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور صارفین نے نوجوان اداکارہ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
پروڈکشن ہاؤس اور ڈائریکٹر کا درفشاں کے حق میں آفیشل بیان
الزامات کے وائرل ہونے کے فوراً بعد شوبز انڈسٹری کے نامور پروڈکشن ہاؤس ‘سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ’ (7th Sky Entertainment) نے اپنے آفیشل ہینڈل سے اس معاملے پر خاموشی توڑ دی۔ معروف پروڈیوسرز عبداللہ کڈوانی اور اسد قریشی نے درفشاں سلیم کا مکمل دفاع کیا ہے۔
پروڈکشن ہاؤس اور ڈرامے کے ڈائریکٹر دانش نواز کے آفیشل بیانات کے مطابق:
درفشاں سلیم ایک انتہائی باوقار اور پیشہ ور (Extremely Professional) اداکارہ ہیں۔
انہوں نے پروجیکٹ کے لیے جو تاریخیں طے کی تھیں ان پر سختی سے عمل کیا اور کبھی بلاوجہ سیٹ پر تاخیر نہیں کی۔
شوٹنگ کے دوران ان کا رویہ سیٹ پر موجود تمام لوگوں کے ساتھ مثبت اور دوستانہ رہا۔
ان بیانات کے سامنے آنے کے بعد شوبز انڈسٹری کے دیگر فنکاروں اور مداحوں نے بھی درفشاں کے اخلاق اور کام سے لگن کی تعریف کرتے ہوئے انہیں سپورٹ کیا ہے۔
کیا درفشاں سلیم سے متعلق افواہیں سچ ہیں؟
جب شوبز میں کوئی اسٹار بہت کم وقت میں بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے تو اس کے گرد افواہوں کا بازار گرم ہونا ایک عام بات ہے۔ ارم اختر کے الزامات کو پروڈکشن ٹیم کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ الزامات یکطرفہ تھے اور ان میں مکمل سچائی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ بلال عباس کے ساتھ ان کی مبینہ خفیہ شادی کی افواہیں بھی ماضی میں اڑ چکی ہیں جنہیں خود درفشاں نے محض ایک بے بنیاد فسانہ قرار دیا ہے۔
مستند معلومات کے لیے سرکاری پورٹلز کا استعمال
میڈیا اور شوبز انڈسٹری میں کسی بھی کمپنی کی رجسٹریشن، لیگل پروسیجر یا حکومتی قوانین جاننے کے لیے ہمیشہ آفیشل پورٹلز کا رخ کرنا چاہیے:
پاکستان میں انٹرٹینمنٹ اور میڈیا سے متعلق قوانین اور پیمرا کے ضوابط پڑھنے کے لیے آپ حکومتِ پاکستان کے آفیشل انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ ڈویژن کے پورٹل پر دستیاب ڈیٹا کو بطور ریفرنس استعمال کر سکتے ہیں۔درفشاں سلیم کے وائرل اسکنڈل کی حقیقت یہ ہے کہ یہ محض سیٹ پر کو-اسٹارز کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمی تھی جسے سوشل میڈیا پر اچھالا گیا۔ پروڈکشن ہاؤس کے مضبوط دفاع نے ثابت کر دیا ہے کہ درفشاں کا کیریئر اور ساکھ تاحال بالکل محفوظ ہے۔
مزید تازہ خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






