پاکستان میں آج کی صبح ڈیجیٹل مواد پر نیا ٹیکس ڈیجیٹل تخلیق کاروں (Creators) کے لیے ایک زبردست ہلچل لے کر آئی ہے۔ 22 اپریل 2026 کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے ڈیجیٹل آمدن پر نئے ٹیکس اقدامات کی خبروں نے یوٹیوب اور سوشل میڈیا انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا یہ ڈیجیٹل مواد کی تخلیق کا خاتمہ ہے یا ایک نئی ریگولیٹری لہر؟
حکومتِ پاکستان نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے اب براہِ راست ویوز (Views) کو ہدف بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف بی آر کی حالیہ تجاویز کے مطابق، ہر 1,000 ویوز پر 195 روپے ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی ڈیجیٹل اکانومی تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن تخلیق کار اس اقدام کو ‘ظالمانہ’ (Punitive) قرار دے رہے ہیں۔
ڈیجیٹل مواد پر نیا ٹیکس: ایف بی آر کی نئی پالیسی کے محرکات
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے حکام کا موقف ہے کہ بہت سے بڑے یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز لاکھوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں لیکن وہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں۔ حکومت کا مقصد ڈیجیٹل سروسز سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کو دستاویزی بنانا ہے۔ تاہم، مسئلہ اس ٹیکس کی شرح اور طریقہ کار کا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی 1,000 ویوز پر 195 روپے ٹیکس لگانا عملی طور پر ممکن نہیں، کیونکہ یوٹیوب کی اپنی آمدن (CPM/RPM) جغرافیائی لحاظ سے بدلتی رہتی ہے۔ بعض اوقات 1,000 ویوز پر تخلیق کار کو اتنے پیسے بھی نہیں ملتے جتنا ٹیکس مانگا جا رہا ہے۔
تخلیق کار اسے ‘ظالمانہ’ کیوں قرار دے رہے ہیں؟
پاکستانی یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل مارکیٹرز کے مطابق یہ ٹیکس انڈسٹری کو فروغ دینے کے بجائے اسے کچلنے کے مترادف ہے۔
کم آمدن والے چینلز: چھوٹے یوٹیوبرز جو بمشکل اپنا خرچہ نکالتے ہیں، ان کے لیے یہ ٹیکس ادا کرنا ناممکن ہوگا۔
تخلیقی لاگت: ایک ویڈیو بنانے کے لیے کیمرہ، لائٹنگ، ایڈیٹنگ اور انٹرنیٹ کے اخراجات پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔
برین ڈرین کا خطرہ: خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ٹیلنٹ پاکستان سے باہر منتقل ہو جائے گا یا وہ غیر ملکی بینک اکاؤنٹس استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) کو بھیجے گئے ایک مشترکہ مراسلے میں تخلیق کاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس ‘آمدن’ پر ہونا چاہیے نہ کہ ‘ویوز’ پر۔
ڈیجیٹل اکانومی کا مستقبل اور حل
اگرچہ حکومت کو ریونیو کی ضرورت ہے، لیکن ڈیجیٹل مواد پر نیا ٹیکس لگانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت ضروری ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی فری لانسرز کے لیے پاکستان فری لانسر ایسوسی ایشن جیسے ادارے موجود ہیں جو اس مسئلے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ حل یہ ہے کہ ایک سادہ ‘انکم ٹیکس’ ماڈل اپنایا جائے جو ترقی پسند (Progressive) ہو یعنی زیادہ کمانے والے زیادہ اور کم کمانے والے کم ٹیکس دیں۔
تازہ خبریں اور اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے Urdu Khabar کا رخ کریں۔






