حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے بے زمین کسانوں، دیہی نوجوانوں اور غریب خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو کنٹرول کرنا اور بنجر یا غیر آباد سرکاری اراضی کو قابلِ کاشت بنا کر صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پروگرام کو شفافیت کے ساتھ شروع کرنے کے لیے ڈیجیٹل پورٹل کا افتتاح بھی کیا ہے تاکہ میرٹ پر اراضی تقسیم کی جا سکے۔
اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم کے اہم خدوخال اور زمین کی تقسیم
اس پروگرام کے تحت پنجاب حکومت نے تقریباً 160 ارب روپے مالیت کی 1 لاکھ 24 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری زرعی زمین مختص کی ہے۔ اس اسکیم کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
طویل مدتی لیز: کامیاب امیدواروں کو 20 سال کے طویل مدتی معاہدے (Lease) پر زرعی زمین فراہم کی جا رہی ہے۔
برائے نام سالانہ فیس: کسانوں کو یہ زمین صرف 100 روپے سالانہ کے برائے نام کرایے پر دی جائے گی۔
زمین کا حجم: چولستان کے علاقے میں فی خاندان کو 5 ایکڑ زمین دی جا رہی ہے جبکہ دیگر اضلاع میں 4 ایکڑ تک اراضی الاٹ کی جا رہی ہے۔
مالی معاونت: زمین دینے کے ساتھ ساتھ حکومتِ پنجاب فی ایکڑ 50 ہزار روپے (کل 2 لاکھ روپے) کی بلا سود مالی امداد بھی دے رہی ہے تاکہ کسان بیج، کھاد اور زمین کی تیاری کے اخراجات پورے کر سکیں۔
چولستان اور دیگر اضلاع میں زمین کی الاٹمنٹ کا آغاز
حکومت نے اس اسکیم کے پہلے مرحلے میں چولستان اور جنوبی پنجاب کے علاقوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ملنے والی 52,000 سے زائد درخواستوں میں سے تصدیق کے بعد 27,000 سے زائد درخواستیں منظور کی گئیں۔ بہاولپور، چولستان میں 83,000 ایکڑ اراضی مختص کر کے 16,000 سے زائد خاندانوں کو اراضی دینے کا ہدف طے پایا ہے جس میں سے پہلے مرحلے میں 10,290 خاندانوں کو الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح فیصل آباد، مظفر گڑھ اور دیگر اضلاع میں بھی کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ کے ذریعے ہزاروں کسانوں میں الاٹمنٹ سرٹیفکیٹس تقسیم ہو چکے ہیں۔
اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم کے لیے اہلیت کا معیار
اس انقلابی پروگرام کا حصہ بننے کے لیے حکومت نے واضح اور سخت معیارِ اہلیت مقرر کیا ہے تاکہ حقداروں کو ان کا حق مل سکے:
سکونت: درخواست گزار کا پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا لازمی ہے۔
شناختی کارڈ: امیدوار کے پاس نادرا کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) ہونا ضروری ہے۔
بے زمین ہونا: اسکیم کا بنیادی ہدف وہ غریب کسان اور مزارعین ہیں جن کے پاس اپنی کوئی زرعی زمین نہیں ہے۔
عمر کی حد: دیہی نوجوانوں اور بے روزگار افراد کو اس میں ترجیح دی گئی ہے تاکہ وہ شہروں کی طرف ہجرت کرنے کے بجائے اپنے ہی علاقوں میں روزگار کما سکیں۔
خواتین کا کوٹہ: اس پروگرام میں خواتین کسانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کی شرح کل درخواستوں میں تقریباً 20 فیصد تک رہی ہے۔
کسانوں کے لیے آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ کار
پنجاب حکومت نے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے تمام عمل کو ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔ خواہش مند افراد ان اقدامات پر عمل کر کے اپلائی کر سکتے ہیں:
پورٹل پر رجسٹریشن: سب سے پہلے زراعت یا متعلقہ محکمے کے آفیشل پورٹل پر جائیں اور اپنے شناختی کارڈ کے ذریعے اکاؤنٹ بنائیں۔
فارم پر کرنا: آن لائن فارم میں اپنی ذاتی معلومات، پتے اور زراعت سے متعلق تجربے کی تفصیلات درج کریں۔
دستاویزات اپ لوڈ کرنا: شناختی کارڈ کی کاپی اور دیگر ضروری کاغذات کو اسکین کر کے پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔
درخواست جمع کرنا اور ٹریکنگ: فارم کو اچھی طرح چیک کرنے کے بعد سبمٹ کر دیں اور سسٹم سے ملنے والے نمبر کے ذریعے اپنی درخواست کی حیثیت چیک کرتے رہیں۔
دیہی معیشت اور زراعت پر اس پروگرام کے مثبت اثرات
اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ پنجاب کی دیہی معیشت کو تبدیل کرنے کا ایک پائیدار منصوبہ ہے۔ اس اقدام سے صوبے کی زرعی پیداوار، خصوصاً گندم اور کپاس کی فصلوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ جب لاکھوں ایکڑ بنجر زمین قابلِ کاشت بنے گی تو اس سے نہ صرف کسانوں کی ذاتی آمدنی بڑھے گی بلکہ ٹرانسپورٹ، کولڈ اسٹوریج اور زرعی صنعتوں میں بالواسطہ (Indirect) ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔ یہ پروگرام پاکستان کی تاریخ میں غریب طبقے کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔






