بلوچستان کی دشت ویلی میں گرین پاکستان انیشیٹو زراعت (GPI) کے تحت بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جس سے خطے کی بنجر اور غیر آباد زمینیں اب سرسبز اور زرخیز کھیتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اس انقلابی منصوبے کا بنیادی مقصد زراعت کی جدید کاری اور مقامی کسانوں کو خود کفیل بنا کر ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
3300 ایکڑ زمین کی ہمواری اور آبپاشی کا جدید نظام
منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اب تک دشت ویلی کی 3 ہزار 300 (3,300) ایکڑ اراضی کو جدید مشینری کے ذریعے مکمل طور پر ہموار (Level) کر دیا گیا ہے۔ اراضی کو برابر کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ فصلوں کو پانی دیتے وقت آبپاشی کا پانی پورے کھیت میں یکساں طور پر تقسیم ہو سکے اور پانی کا ضیاع کم سے کم ہو۔ اس مہم سے کاشتکاری کے رقبے میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
کسانوں کی تربیت اور سولر ٹیوب ویلز کی تنصیب
مقامی زمینداروں کی آمدن بڑھانے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کسانوں کو جدید زرعی طریقوں، بیجوں کے صحیح استعمال اور پیسٹ کنٹرول سے متعلق خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید برآں کسانوں کو سستی اور ماحول دوست آبپاشی فراہم کرنے کے لیے دشت ویلی میں سولر ٹیوب ویل بڑے پیمانے پر نصب کر دیے گئے ہیں جس سے کسان مہنگے ڈیزل کے بغیر چوبیس گھنٹے صاف اور سستی بجلی کے ذریعے اپنی فصلوں کو سیراب کر سکتے ہیں۔






