پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے صوبے بھر کے اسکولوں میں پڑھنے والے آٹھویں (گریڈ 8) اور پانچویں (گریڈ 5) کلاس کے طلبہ کے لیے امتحانات اور تشخیصی نظام کے نئے اور اہم فارمیٹ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد امتحانی نظام کو جدید بنانا، بوٹی مافیا کا خاتمہ کرنا اور پرچوں کی چیکنگ کے عمل کو مکمل شفاف بنانا ہے۔
آٹھویں کلاس کے امتحانات اور ای شیٹ کا استعمال
صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق آٹھویں کلاس (Grade 8) کے سالانہ امتحانات پچھلی بار کی طرح صرف چار بڑے مضامین (English, Mathematics, Urdu, General Science) پر مشتمل ہوں گے۔ ان امتحانات کا انعقاد پنجاب ایجوکیشن کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTA) کے زیرِ اہتمام کیا جائے گا۔
آٹھویں کلاس کا نیا امتحانی نظام درج ذیل جدید خصوصیات سے لیس ہوگا:
ای شیٹ پر امتحانات: طلبہ کو جوابات لکھنے کے لیے خصوصی کمپیوٹرائزڈ ای شیٹس فراہم کی جائیں گی۔
آن اسکرین مارکنگ : پرچوں کی مینوئل (کاغذی) چیکنگ کا روایتی طریقہ ختم کر کے تمام جوابی کاپیوں کو اسکین کیا جائے گا اور اساتذہ کمپیوٹر اسکرین پر ڈیجیٹل طریقے سے پیپر چیک کریں گے تاکہ نمبروں کی ہیرا پھیری کو روکا جا سکے۔
پانچویں کلاس کے لیے روایتی امتحانات کا خاتمہ
گریڈ 8 کے برعکس پانچویں کلاس (Grade 5) کے طلبہ کے لیے حکومت نے ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے روایتی بورڈ امتحانات کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اب پانچویں کلاس کے بچوں کا کوئی روایتی پرچہ نہیں لیا جائے گا بلکہ ان کے لیے ایک ہولیسٹک اسیسمنٹ یعنی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینے کا طریقہ کار نافذ کیا جائے گا۔ یہ تشخیصی عمل انتہائی منصفانہ اور شفاف ہوگا جس کا مقصد رٹا سسٹم کو ختم کر کے بچوں کی ذہنی و تخلیقی صلاحیتوں کو پرکھنا ہے۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے واضح کیا کہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کمزور رزلٹ دینے والے اسکولوں اور اساتذہ کا باقاعدہ احتساب کیا جائے گا۔ نگرانی کے اس سخت نظام، سزا و جزا کی پالیسی اور میرٹ کے فروغ سے پنجاب کے سرکاری اسکولوں کا معیارِ تعلیم بین الاقوامی سطح کے مطابق بہتر بنایا جائے گا۔






