کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جائیداد کی خرید و فروخت اور پلاٹ فائلوں کی تصدیق کے عمل کوآسان بنانے کے لیے نئے اور سخت انتظامی قوانین متعارف کروا دیے ہیں۔ سی ڈی اے انتظامیہ نے اپنے تمام متعلقہ افسران اور عملے کو واشنگٹن ماڈل کے مطابق سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ پراپرٹی کیسز کی پروسیسنگ کے دوران شہریوں کو بلاوجہ ہراساں کرنے اور غیر ضروری تصدیقی مراحل کے نام پر تاخیر پیدا کرنے سے مکمل گریز کیا جائے۔
بغیر اجازت فائل روکنے اور انکوائری شروع کرنے پر پابندی
میمبر اسٹیٹ کے دفتر سے 5 نومبر 2026 کو جاری ہونے والے ایک آفیشل نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ بات سامنے آئی تھی کہ لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹوریٹ کے کچھ افسران کسی ٹھوس قانونی جواز یا ٹھوس ثبوت کے بغیر ہی شہریوں کی پلاٹ فائلوں پر اعتراضات لگا کر ان کی تصدیق کا طویل عمل شروع کر دیتے تھے۔ اس غیر پیشہ ورانہ رویے سے نہ صرف جائیداد کے منتقلی کے کیسز مہینوں لٹک جاتے تھے بلکہ جائیداد کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اسلام آباد میں پلاٹ فائل کی تصدیق کے نئے قوانین کے تحت اب کوئی بھی افسر اپنی مرضی سے کسی پلاٹ کی فائل کو مشکوک قرار دے کر انکوائری شروع نہیں کر سکے گا۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق کسی بھی پلاٹ فائل کی اصلیت کی انکوائری یا تصدیق کا عمل شروع کرنے سے پہلے ڈائریکٹر جنرل (لینڈ اینڈ اسٹیٹ مینجمنٹ) سے باقاعدہ تحریری اور پیشگی منظوری حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
این ڈی سی (NDC) کا حصول اور تھری ڈے ڈیسک رول
سی ڈی اے نے شہریوں کو ریلیف دینے اور بیوروکریسی کا اثر رسوخ کم کرنے کے لیے جائیداد کی منتقلی کے لیے درکار نو ڈیمانڈ سرٹیفکیٹ (NDC) اور دیگر کاغذی کارروائیوں کے لیے واضح ٹائم لائنز (ڈیڈ لائنز) مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ڈیسک کے لیے درخواستیں نمٹانے کا وقت مقرر کر کے نوٹیفائی کریں۔
نئے احکامات کے تحت تھری ڈے ڈیسک رول نافذ کیا جا رہا ہے جس کے مطابق ترجیحی طور پر کوئی بھی پلاٹ فائل یا پراپرٹی کیس سی ڈی اے کے اسٹیٹ ونگ میں کسی ایک مخصوص ڈیسک یا افسر کی میز پر 3 دن سے زیادہ التوا کا شکار نہیں رہنی چاہیے۔ سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد ادارے کی انتظامی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنانا، شہریوں کے جائیداد سے متعلقہ کیسز کو وقت پر حل کرنا اور کرپشن و سست روی کے کلچر کا خاتمہ کرنا ہے۔






