وزیراعظم شہباز شریف 27 اکتوبر کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں پاک چین فرینڈ شپ ہسپتال کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ 250 بستروں پر مشتمل یہ طبی مرکز بنیادی طور پر 2020 میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران ایک آئسولیشن ہسپتال کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اب اسے ایک مکمل جنرل ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ مقامی آبادی کو صحت کی بہتر اور سستی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزارت صحت کا فیصلہ اور ہسپتال کا نیا نام
وفاقی وزارتِ صحت اور متعلقہ حکام نے پہلے اس طبی مرکز کا نام مارگلہ ہسپتال رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق چین کی گراں قدر مالی و تکنیکی معاونت کا اعتراف کرنے کے لیے وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر اس کا نام تبدیل کر کے پاک چین فرینڈ شپ ہسپتال رکھا گیا۔ اس منصوبے کے لیے چین نے 4 ملین ڈالر کی گرانٹ دی تھی اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے اسے ریکارڈ 40 دنوں میں تعمیر کیا تھا۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور آپریشنل ماڈل
کورونا کی وبا ختم ہونے کے بعد یہ ہسپتال عملے کی کمی اور دیگر آپریشنل چیلنجز کی وجہ سے غیر فعال ہو گیا تھا۔ اب اس ہسپتال کے انتظامی اور آئسولیشن امور کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وزارت صحت نے انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو علاج معالجے کی بہترین اور مفت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔






