وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام نیشنل بائیوسیفٹی کمیٹی کے 38 ویں اجلاس میں ملک کے زرعی نظام اور عوامی صحت سے متعلق ایک اہم ترین انتظامی فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے سویابین، مکئی اور کپاس سمیت متعدد جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیجوں اور جی ایم او فصلوں کی درآمد کے مقدمات پر حتمی فیصلوں کو عارضی طور پر مؤخر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایڈوائزر کمیٹی کی مبہم سفارشات کے باعث سامنے آیا۔
ایڈوائزر کمیٹی کو مقدمات کی دوبارہ واپسی
کمیٹی نے واضح کیا کہ 45 ویں اجلاس کی پیش کردہ رپورٹ حتمی نتائج پر پہنچنے کے لیے ناکافی تھی جس کی وجہ سے یہ تمام کیسز مزید تفصیلی جائزے کے لیے ٹیکنیکل پینل کو واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ اس ایجنڈے میں خوراک اور فیڈ کے لیے سویابین میل کی امپورٹ، جی ایم کارن کے بائیوسیفٹی لائسنس کی تجدید اور کپاس سے متعلق مختلف درخواستیں شامل تھیں جن پر اب نظرثانی کی جائے گی۔
نیشنل ایگریکلچرل بائیوٹیکنالوجی پالیسی کا نفاذ
وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے نمائندے نے بریفنگ کے دوران یاد دلایا کہ حکومت نے 2019 سے ان بائیوٹیک غذائی فصلوں کی تجارتی سرگرمیوں کو روک رکھا تھا۔ اب اس خلا کو نئی نیشنل ایگریکلچرل بائیوٹیکنالوجی پالیسی کے تحت پُر کر دیا گیا ہے جو زرعی بائیوٹیکنالوجی مصنوعات کی جانچ اور ان کی تجارتی منظوری کے لیے ایک جامع اور محفوظ قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔






