پاکستان کے کارپوریٹ فنانشل انفراسٹرکچر، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ، پبلک سروس ڈیلیوری، اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے تزویراتی کوریڈورز سے ادویات اور صنعتی مینوفیکچرنگ کے تئیں اب تک کا سب سے بڑا تزویراتی سنگِ میل سامنے آیا ہے۔ ایس ای سی پی اور کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی نے مربوط ورکنگ فریم ورک کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت طبی اور صنعتی کینابس کے شعبے میں داخل ہونے والے تمام نئے کاروباروں کو کمپنی رجسٹریشن سے پہلے ریگولیٹری منظوری لینا لازمی ہوگا۔
9 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں منعقدہ دستاویزی تقریب کے مطابق اس انقلابی مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر ایس ای سی پی کینابس رجسٹریشن رولز کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔ نئے کونسل رولز کے تحت وہ تمام کمپنیاں جو اپنے میمورنڈم آف ایسوسی ایشن میں کینابس سے وابستہ سرگرمیاں شامل کرنا چاہتی ہیں انہیں رجسٹریشن سے پہلے سی سی آر اے سے باقاعدہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ یہ معاہدہ ایس ای سی پی کمشنر مظفر احمد مرزا اور سی سی آر اے ڈائریکٹر آصف ہارون نے لائیو دستخط کر کے آٹو لاک کر دیا ہے تاکہ مینوئل لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
ناموں کی ریزرویشن، شیئر ہولڈنگ تبدیلیاں اور آڈٹ
ایس ای سی پی کے چیئرمین کبیر احمد سدھو اور سی سی آر اے کے ڈی جی میجر جنرل ظفر اللہ خان کی موجودگی میں طے پانے والے پروٹوکول کے مطابق عازمین اپنے مطلوبہ نام تو ریزرو کروا سکتے ہیں مگر باقاعدہ مینوفیکچرنگ لاگ ان این او سی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ یہ شرط بعد کے آپریشنز، ڈائریکٹرز کی تبدیلی اور شیئر ہولڈنگ الائنمنٹ پر بھی سخت اینٹی چیٹنگ سیکیورٹی کے تحت لاگو رہے گی۔
کارپوریٹ رجسٹریشن اور لائسنسنگ گرڈ کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| ریگولیٹری ادارہ لاگ کوڈ | تفویض کردہ تزویراتی ذمہ داری | لازمی ریگولیٹری و سیکیورٹی پروٹوکول رول |
| ایس ای سی پی | کارپوریٹ رجسٹریشن اور کمپنی تعمیل آڈٹ | ڈیجیٹل پورٹل کے تحت سوفٹ وئیر مانیٹرنگ سنک۔ |
| سی سی آر اے | مخصوص لائسنسنگ اور کینابس سیکٹر قوانین | این او سی کا پیپر لیس اور کیش لیس اجرا۔ |
| آمدنی و آپریشنل کٹس | ڈائریکٹرز و شیئر ہولڈنگ لائیو مائپنگ | کسی بھی مینوئل التوا یا غیر قانونی سرگرمی کا خاتمہ۔ |
یہ مربوط اور پیپر لیس مینوفیکچرڈ ماڈل ملکی معاشی ساکھ کو برقرار رکھنے اور ابھرتے ہوئے میڈیکل اثاثوں کو محفوظ زون میں لاک کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔






