پاکستان کے وفاقی لاجسٹک انفراسٹرکچر، کارپوریٹ گورننس، پبلک سروس ڈیلیوری اور وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ کے تزویراتی کوریڈورز سے سرکاری ملازمین اور فیسکل مینیجرز کے لیے ایک اہم، ہنگامی اور بڑا مالیاتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تزویراتی اجلاس میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے برطرف ملازمین کے واجبات اور تنخواہوں کی فوری ادائیگی کے لیے 11.3 ارب روپے کے بھاری فنڈز جاری کرنے کی اسمارٹ منظوری دے دی ہے۔
9 اکتوبر 2026 کو وزارتِ خزانہ اور فیسکل مینیجرز کے پورٹلز پر لائیو سنک ہونے والے آفیشل لاگز کے مطابق اس میگا ریلیف مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن ملازمین فنڈز کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس خسارے کا شکار ریاستی ادارے کو مستقل طور پر بند کرنے کے فیصلے کے بعد ہزاروں برطرف ملازمین کو تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی میں شدید مینوئل التوا کا سامنا تھا۔ ستمبر 2025 میں ادارے کے 7,000 سے زائد ملازمین برطرف کیے گئے تھے جنہوں نے واجبات کی عدم ادائیگی پر شدید احتجاج لاک کیا تھا تاکہ تجارتی دباؤ مینوفیکچر کر کے اپنے پریمیم حقوق حاصل کر سکیں۔
7 ہزار سے زائد عملے کے واجبات اور فیسکل لکویڈیٹی کا آڈٹ
وزارتِ خزانہ کے کارپوریٹ مینیجرز کے مطابق ستمبر 2026 سے اب تک تصدیق شدہ واجبات اور بقایاجات کی اسمارٹ اسکرٹنی مکمل کی جا چکی ہے تاکہ کسی بھی اینٹی چیٹنگ لوپ ہول کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔ یہ فنڈز پیپر لیس موڈ میں ملازمین کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے جائیں گے۔
ادارے کی بندش اور مالیاتی پیکیج کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق محفوظ ہے:
| کارپوریشن اثاثہ و عملہ لاگ | تفویض کردہ فیسکل ریلیف والیم | ریگولیٹری و سیکیورٹی پروٹوکول رول |
| کل منظور شدہ فنڈز پیکیج | 11.3 ارب روپے لائیو | تنخواہوں، الائونسز اور سرورینس کلیئرنس کیلیے الاٹ۔ |
| برطرف عملہ (ستمبر 2025) | 7,000 سے زائد پبلک ملازمین | نادرا اور کلاؤڈ ڈیٹا بیس کے تحت بائیو ڈیٹا لاگز سنک۔ |
| واجبات نفاذ کی حیثیت | تصدیق شدہ فیسکل لکویڈیٹی | مینوئل التوا کا خاتمہ اور پیپر لیس اکاؤنٹس آڈٹ۔ |
یہ مربوط اور کیش لیس آپریشنل رخ ملکی ہیومن انڈیکس کو بہتر بنانے اور ملازمین کا پبلک ٹرسٹ بحال کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔






