پاکستان کے بارڈر کنٹرول انفراسٹرکچر، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ، اینٹی منی لانڈرنگ پروٹوکول اور سول ایوی ایشن کے تزویراتی کوریڈورز سے غیر قانونی مالیاتی لکویڈیٹی کے خلاف ایک انتہائی ہنگامی، اہم اور اب تک کا سب سے بڑا انتظامی کریک ڈاؤن سامنے آیا ہے۔ کسٹمز حکام نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر ایک کامیاب لائیو کارروائی انجام دیتے ہوئے دبئی جانے والی ایک خاتون مسافر کے قبضے سے 11.8 ملین (ایک کروڑ 18 لاکھ) روپے سے زائد مالیت کی غیر ملکی کرنسی ضبط کر کے اسمگلنگ کی بڑی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
5 اکتوبر 2026 کو کسٹمز انٹیلی جنس اور ایئرپورٹ مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ریگولیٹری لاگز کے مطابق اس ہائی ٹیک سیکیورٹی آپریشن کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر کراچی ایئرپورٹ کرنسی اسمگلنگ ایکشن کا ڈیجیٹل کلاؤڈ مانیٹرنگ سسٹم متحرک ہو چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق خاتون مسافر ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے دبئی روانہ ہو رہی تھی جس نے بورڈنگ اور کسٹمز ڈیکلریشن کے مینوئل فیز کے دوران اپنے پاس موجود غیر ملکی فنڈز کے حوالے سے غلط اور گمراہ کن معلومات پے کیں۔ اس گرینڈ آپریشن کا بنیادی ہدف ملکی فنانشل کیش بلیڈ کو روکنا اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور ایئرپورٹ سیکیورٹی انڈیکس مستقل طور پر بلند رکھنا ہے۔
سوٹ کیس سے برآمد ہونے والی غیر ملکی کرنسیوں کا آڈٹ اور بریک ڈاؤن
کسٹمز کے سیکیورٹی مینیجرز نے مشتبہ حرکات پر جب خاتون کے سامان کی پکسل لیول اسکیننگ اور مینوئل تلاشی لی تو سوٹ کیس کے خفیہ خانوں سے مختلف بین الاقوامی کرنسیوں کے بنڈلز برآمد ہوئے جنہیں نادرا اور کسٹمز کے پورٹل پر لائیو سنک کر کے سیل کر دیا گیا ہے۔
برآمد ہونے والی غیر ملکی کرنسی کے ٹرانزیکشن لاگز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق آٹو لاک ہے:
| ضبط شدہ غیر ملکی کرنسی لاگ | حاصل کردہ فنانشل والیم حجم | کلاؤڈ ریٹس کے مطابق پاکستانی مالیت |
| امریکی ڈالر | $33,600 ڈالر | مجموعی اسمارٹ فنڈ ان پٹ کا حصہ |
| یو اے ای درہم | 19,815 درہم | خلیجی کرنسی اسمگلنگ کٹس کا حصہ |
| برطانوی پاؤنڈ | £2,570 پاؤنڈ | یورپین کوریڈور فنانشل والیم |
| یورو کرنسی | €300 یورو | کسٹمز ایکٹ کے تحت آٹو کسٹڈی |
| مجموعی تشخیص انڈیکس | تمام کرنسیاں شامل | تقریباً 11.8 ملین (سوا کروڑ) روپے |
کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت ایف آئی آر کا نفاذ اور سخت قانونی پروٹوکول
کسٹمز حکام نے مسافر کی جانب سے جھوٹا ڈیکلریشن دینے اور فیسکل قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر مروجہ کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے پوری غیر ملکی کرنسی کو بحقِ سرکار ضبط کر لیا ہے۔ خاتون مسافر کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کی سنگین دفعات کے تحت باقاعدہ طور پر ایف آئی آر درج کر کے تفتیشی سیل کے سپرد کر دیا گیا ہے اور نیٹ ورک کے دیگر مینوئل لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنے کے لیے ریموٹ روڈ میپ کے تحت مزید قانونی کارروائی لائیو جاری ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کا یہ مربوط اور پیپر لیس سیکیورٹی ماڈل ملکی معاشی استحکام کرنسی پرواز کو روکنے اور ایف اے ٹی ایف کے قوانین کی 100 فیصد تعمیل کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے جس کی حتمی رپورٹ وفاقی وزارتِ داخلہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔






