پنجاب کے انتظامی ڈھانچے، بلدیاتی نظام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کوریڈورز اور پبلک سیکٹر گورننس کے محاذ سے ایک انتہائی تزویراتی، دور رس اور بڑا ریگولیٹری بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور انتظامی تعطل کو دور کرنے کے لیے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو تشکیل شدہ ستھرا پنجاب ایجنسیوں کا عبوری چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔
آج 29 ستمبر 2026 کو محکمہ لوکم گورنمنٹ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ریگولیٹری مینوئل اور پریس الرٹ کے مطابق یہ تمام تقرریاں باقاعدہ طور پر ستھرا پنجاب اتھارٹی سربراہ کے قانونی فریم ورک کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں۔ اس فلیگ شپ پراجیکٹ کا بنیادی ہدف اضلاع کی سطح پر صفائی کے مینوئل لوپ ہولز کو ختم کرنا، ٹھیکیداروں کے بقایاجات کے مسائل کو حل کرنا اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے پورے انفراسٹرکچر کو طویل مدتی استحکام اور سوفٹ وئیر بیسڈ شفافیت فراہم کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی دنیا کے سامنے پنجاب کا سافٹ امیج مستقل طور پر فروغ پا سکے۔
ستھرا پنجاب اتھارٹی ایکٹ 2026 اور لوکل گورنمنٹ منسٹر کی خصوصی ہدایات
سرکاری مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنرز کی یہ تعیناتیاں ستھرا پنجاب اتھارٹی ایکٹ 2026 کے سیکشن (2)11 کے تحت تفویض کردہ قانونی اختیارات کے تحت مینوفیکچر کی گئی ہیں۔
اس نئے اسمارٹ ریگولیٹری آرڈر کے تین کلیدی انتظامی پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں
وزیرِ بلدیات کی براہِ راست نگرانی: یہ تعیناتیاں صوبائی وزیر برائے لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی خصوصی ہدایات پر کی گئی ہیں جو اس اتھارٹی کے وائس چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
عارضی اور عبوری قیادت : یہ تقرریاں مکمل طور پر عبوری ہیں اور اس وقت تک نافذ العمل رہیں گی جب تک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے باقاعدہ اور مستقل چیئرمینز کے ناموں کا کلاؤڈ ریکارڈ لاک نہیں کر دیا جاتا۔
انتظامی امور کا آڈٹ: عبوری سربراہ کے طور پر ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں ایجنسیوں کے اجلاس بلانے، صدارت کرنے اور ان کے تمام قانونی، انتظامی اور آپریشنل لاگز کی کڑی مانیٹرنگ کرنے کے مجاز ہوں گے۔
ٹھیکیداروں کے واجبات کا بحران اور فنانشل لکویڈیٹی کا فریم ورک
سیاسی اور معاشی ماہرین کے مطابق یہ ہنگامی قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب حال ہی میں پنجاب کی 21 تحصیلوں میں ستھرا پنجاب کے ٹھیکیداروں نے فنانشل فنڈز اور بقایاجات کی عدم ادائیگی کے باعث مینوئل صفائی کا کام روک دیا تھا۔ اس صورتحال نے صوبے کے پبلک ہیلتھ انڈیکس پر دباؤ مینوفیکچر کر دیا تھا۔
اب ڈپٹی کمشنرز کو ستھرا پنجاب اتھارٹی سربراہ مقرر کرنے سے اضلاع کے اندر فنانشل ٹیرف رولز کو سنک کرنا آسان ہو جائے گا۔ ڈپٹی کمشنرز اسٹیٹ بینک اور نادرا سے مربوط کیش لیس پیمنٹ گیٹ ویز کے ذریعے ٹھیکیداروں کے ٹرانزیکشن لاگز کا آڈٹ کر کے فنڈز ریلیز کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے جس سے بلیک مارکیٹنگ کا جڑ سے خاتمہ ہوگا اور عوام کو ریلیف ملے گا۔ یہ اقدام پنجاب کی کریڈٹ ریٹنگ اور پائیدار ترقی کو مستقل طور پر یقینی بنائے گا۔






