جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے مابین ایگری کلچر انفراسٹرکچر، فوڈ سیکیورٹی اور حلال فوڈ مارکیٹ کے کوریڈورز میں کارپوریٹ انضمام کے حوالے سے کوالالمپور سے ایک انتہائی اہم دور رس اور تزویراتی معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ملائیشیا کی حکومت نے پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد باقاعدہ طور پر پاکستان سے چاول کی برآمدات بڑھانے اور زرعی شعبے میں باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔
آج 28 ستمبر 2026 کو موصول ہونے والی آفیشل دستاویزی لاگز کے مطابق اس تاریخی پیشرفت کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پاک ملائیشیا زرعی تجارت کا اسمارٹ اور سوفٹ وئیر بیسڈ کوریڈور فعال ہو چکا ہے۔ پاکستان کے وفاقی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ عامر علی احمد، وفاقی سیکرٹری تجارت جواد پال اور ملائیشیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید احسن رضا شاہ نے ملائیشیا کے سرکاری درآمدی ادارے برناس شعبہ اسلامی ترقی اور وزارتِ زراعت کے اعلیٰ مینیجرز کے ساتھ مل کر تجارتی حجم کو ریکارڈ حد تک بلند کرنے کا مینوفیکچرڈ پلان لائیو کر دیا ہے۔
برناس کے ساتھ چاول کی برآمد کا آڈٹ اور کوالٹی اشاریے
کوالالمپور میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کا سب سے بڑا اور بنیادی محور ملائیشیا کی چاول کی مارکیٹ تک پاکستانی برآمد کنندگان کی رسائی کو آسان بنانا تھا۔ وفد نے برناس گروپ کے سی ای او داتو ڈاکٹر سراج الدین بن سہیمی کے ساتھ ایک خصوصی زوم اور ان پرسن میٹنگ کی جس میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ، محکمہ تحفظِ نباتات اور رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے کارپوریٹ مینیجرز نے کڑی مانیٹرنگ کے تحت شرکت کی۔
اس نئے سپلاؤ چین فریم ورک کے بنیادی پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
برناس کوالٹی اسٹینڈرڈز کا نفاذ: پاکستانی چاول کی برآمدات کو ملائیشیا کے سخت معیارِ صحت کے مطابق بنانے کے لیے لیبارٹری ٹیسٹنگ اور پکسل لیول اسکیننگ کو ڈیجیٹائزڈ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی مینوئل خرابی یا نیٹ ورک ٹائم آؤٹ کا خدشہ صفر رہے۔
ملائیشیا انٹرنیشنل حلال شوکیس : پاکستانی زرعی مصنوعات کو عالمی کسٹمرز کے سامنے پیش کرنے اور ریوینیو انڈیکس بڑھانے کے لیے ملائیشیا کے سب سے بڑے حلال شوکیس پورٹل پر پاکستانی پویلین کو لائیو کلیئرنس دی جائے گی۔
جاکم کے ساتھ حلال سرٹیفیکیشن اور کلاؤڈ نیٹ ورکنگ
مذاکرات کا دوسرا سب سے اہم فیز پاکستان حلال اتھارٹی اور ملائیشیا کے مایہ ناز ادارے جاکم کے مابین طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت پر عملدرآمد کا سائنسی آڈٹ کرنا تھا۔ جاکم کی ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ہونے والی اس میٹنگ میں دونوں اطراف نے ٹیکنیکل اور انسٹی ٹیوشنل کلوڈ نیٹ ورکنگ کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔
اس اسمارٹ ریگولیٹری معاہدے کے دو کلیدی فیچرز یہ ہیں:
سرٹیفیکیشن سسٹمز کا انضمام: پاکستان کی حلال سرٹیفائیڈ کمپنیوں کے ٹرانزیکشن لاگز کو جاکم کے سوفٹ ویئر پورٹل کے ساتھ آٹو سنک کیا جائے گا جس سے نان فائلرز، اسکیمرز اور بلیک مارکیٹنگ کا جڑ سے خاتمہ ہوگا اور کسٹمرز کا اعتماد بحال ہوگا۔
ٹیکنالوجی اور ویکسینز کا تبادلہ: ملائیشیا کی وزارتِ زراعت کے سیکرٹری جنرل داتوک سیری ایشام بن اسحاق کے ساتھ ایک الگ میٹنگ میں چاول، گوشت، پولٹری، فشریز، اینیمل ویکسینز اور حلال جیلیٹن کے شعبوں میں بائیوسیکیورٹی کو اپ گریڈ کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
حکومتِ پاکستان اور ملائیشیا نے اس زرعی تعاون کو طویل مدتی استحکام فراہم کرنے کے لیے ایک مستقل اور باقاعدہ فائنل میکانزم مینوفیکچر کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا باقاعدہ آغاز نومبر 2026 میں ہونے والے پہلے مشترکہ ورچوئل اجلاس سے ہوگا۔ یہ دور رس سفارتی بریک تھرو بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر بلند کرے گا جو طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح ہے۔






