پاکستان کے مالیاتی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، میکرو اکانومی اور بین الاقوامی اقتصادی سفارت کاری کے کوریڈورز سے ایک انتہائی سنسنی خیز، ہنگامی اور بڑا معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے جاری بیل آؤٹ پروگرام کے تحت گورننس کو بہتر بنانے سبسڈیز کو ختم کرنے اور اپنے سخت ترین اہداف کو پورا کرنے کے لیے پاکستان سے مجموعی طور پر 174 قانونی ترامیم کا ایک غیر معمولی اور انتہائی مشکل ترین ٹاسک مانگ لیا ہے۔
اس تزویراتی معاشی دباؤ کے بعد باقاعدہ طور پر آئی ایم ایف معاشی شرائط بحران کا سیکیورٹی اور فائنینشل فریم ورک لائیو ہو چکا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اہم اجلاس کے دوران وفاقی فنانس سیکرٹری امداد اللہ بوسال نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اب تک اس پروگرام کے تحت تین کامیابی ریویوز مکمل کر کے 4.1 ارب ڈالرز کی خطیر فنانشل رقم حاصل کر چکا ہے لیکن اگلے فنڈز کو محفوظ لاک کرنے کے لیے ان 174 ترامیم کے سوفٹ وئیر رولز پر کڑی مانیٹرنگ اور پیپر لیس عملدرآمد کرنا فرض ہے۔
بیوروکریسی کے اثاثوں کا آڈٹ اور ارکانِ پارلیمنٹ کا شدید مینوئل احتجاج
قائمہ کمیٹی کے سائنسی آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اب سرکاری افسران اور بیوروکریسی کے اثاثوں کی تمام تر خفیہ معلومات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کرے گا۔ اگر کسی افسر کے ٹرانزیکشن لاگز میں آمدن سے زائد اثاثے پائے گئے تو اس کے خلاف سوفٹ وئیر بیسڈ ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تاہم، اس قانون پر کمیٹی میں موجود ارکانِ پارلیمنٹ نے شدید مینوئل احتجاج درج کروایا:
حنا ربانی کھر اور نوید قمر کا سخت رخ: سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور رکنِ اسمبلی نوید قمر نے سرکاری مینیجرز کے اثاثوں کو جزوی طور پر عوام کے سامنے چھپانے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سیاستدانوں کے لیے اپنے تمام اثاثے پبلک کرنا لازمی ہے تو بیوروکریسی کے اثاثوں کو سیکیورٹی خدشات کا مینوئل عذر بنا کر کیوں چھپایا جا رہا ہے؟
سیکیورٹی خدشات کا جواب طلب: قانون سازوں نے حکومت سے سخت مطالبہ کیا کہ وہ ان سیکیورٹی وجوہات کی سائنسی وضاحت پیش کرے جن کی بنیاد پر افسران کے کلاؤڈ ریکارڈز کو پبلک انڈیکس سے دور رکھا گیا ہے۔
سوورن ویلتھ فنڈ ایکٹ میں تبدیلیاں اور سبسڈیز کا خاتمہ
فنانس سیکرٹری امداد اللہ بوسال نے کمیٹی کو مزید بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف کے مائنڈ سیٹ کے مطابق Sovereign Wealth Fund Act میں بھی تزویراتی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ اس نئے ترمیم شدہ مینوفیکچرڈ پلان کے تحت اب مشترکہ سرمایہ کاری کی لائیو اجازت ہوگی، اور اس فنڈ کو سرکاری اداروں کے ایکٹ کے عین مطابق سنک کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مینیجرز نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے فنانشل ٹیرف رولز کے تحت ملک کے مختلف شعبوں کو دی جانے والی تمام تر مینوئل فنانشل سبسڈیز کو بتدریج اور مکمل طور پر فیز آؤٹ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ اور سپلیمنٹری گرانٹس پر مکمل پابندی جیسے اسمارٹ اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کو کم کرنے اور تعلیم پر معاشی اخراجات بڑھانے جیسے اہم ترین تعلیمی و معاشی اشاریوں پر پیشرفت اب بھی محدود ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج اور طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کی گئی ہے۔






