پاکستان کی خارجہ پالیسی بین الاقوامی سفارت کاری اور امیگریشن کوریڈورز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک انتہائی اہم، انقلابی اور تزویراتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے باقاعدہ طور پر دنیا کے درجنوں دوست اور شراکت دار ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری کے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت پاکستان ویزا استثنی معاہدے کا اسمارٹ اور سوفٹ وئیر بیسڈ فریم ورک لائیو کر دیا گیا ہے۔
19 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والے آفیشل پبلک مینوئل کے مطابق، یہ نیا سفارتی انتظام بنیادی طور پر ان دوست ممالک کے سفارتی اور سرکاری یا آفیشل پاسپورٹ ہولڈرز کا احاطہ کرتا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی اور اس کے تمام ایئرپورٹ زونز کے امیگریشن مینیجرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مسافروں کی لائیو اسکیننگ اور بارڈر کنٹرول کے دوران وائٹ لسٹ کیے گئے ممالک کی اس نئی اپڈیٹڈ کلاؤڈ لسٹ پر فوری اور پیپر لیس موڈ میں عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
ویزا فری قیام کا دورانیہ اور کونسل رولز کے تحت ممالک کی تفصیل
وزارتِ خارجہ کے ریگولیٹری مینوئل کے مطابق، ان معاہدوں کے تحت پاکستان آنے والے غیر ملکی سفارت کاروں اور سرکاری مینیجرز کے بغیر ویزا قیام کا دورانیہ ہر ملک کے طے شدہ ٹیرف رولز کے لحاظ سے مختلف مینوفیکچر کیا گیا ہے جس کی حد ایک ماہ سے لے کر تین ماہ تک فکس کی گئی ہے۔
ایف آئی اے کے کلاؤڈ نیٹ ورک پر اپ لوڈ کی جانے والی آفیشل لائیو لسٹ میں درج ذیل اہم ترین عالمی بلاکس اور ممالک شامل ہیں:
مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک: اس اسمارٹ کوریڈور میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، بحرین، کویت، قطر اور ایران جیسے اہم ترین خلیجی شراکت دار شامل ہیں۔
ایشیائی اور وسطی ایشیائی برادر ممالک: ترکیہ، ملائیشیا، انڈیشیا، تھائی لینڈ، آذربائیجان، بنگلہ دیش اور نیپال کے نام بھی اس ویزا فری انڈیکس کا حصہ مینوفیکچر کیے گئے ہیں۔
عالمی طاقتیں اور دیگر خطے: روس، ارجنٹائن اور مصر جیسے معاشی مینیجرز کو بھی اس کلاؤڈ لسٹ کے تحت پاکستان آمد پر بائیومیٹرک اسکیننگ کے بعد فوری انٹری کا سافٹ ویئر کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔
سفارتی تعلقات کا فروغ اور معاشی اشاریوں پر مثبت اثرات
بین الاقوامی جیو پولیٹیکل مینیجرز کے مطابق اس کیش لیس اور کیو آر کوڈ پر مبنی ویزا پالیسی کا نفاذ پاکستان کے سافٹ امیج کو عالمی برادری کے سامنے ایک ذمہ دار اور اسمارٹ ڈیجیٹل ریاست کے طور پر مستقل طور پر فروغ دے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف مینوئل دفتری تاخیر اور ویزا پروسیسنگ کے لوپ ہولز کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگا بلکہ مختلف ممالک کے اعلیٰ وفود کے مابین پاکستان میں سرمایہ کاری اور پبلک سیکٹر پراجیکٹس کی کڑی مانیٹرنگ کے لیے روابط ریکارڈ حد تک تیز ہو جائیں گے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اصلاحات باہمی احترام کے تحت کی گئی ہیں یعنی ان ممالک میں جانے والے پاکستانی سفارت کاروں اور آفیشل پاسپورٹ ہولڈرز کو بھی اسی طرح کی سوفٹ وئیر کلیئرنس اور ویزا فری انٹری کی لائیو سہولت حاصل رہے گی۔






