پاکستان کی ہوا بازی کی صنعت ، قومی معیشت اور جیو پولیٹیکل سفارتی روابط کے کوریڈورز کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) نے اپنے نئے تعیّناتی چیئرمین کے اسمارٹ انتظامی فریم ورک اور کڑی نگرانی کے تحت بین الاقوامی سطح کا ایاٹا آپریشنل سیفٹی آڈٹ کامیابی سے پاس کر لیا ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی کے بعد ملکی ہوا بازی کے انڈیکس پر لگے پرانے داغ صاف ہونا شروع ہو گئے ہیں اور قومی ایئرلائن پر عائد یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ کی فضائی پابندیوں کے مکمل خاتمے کا روڈ میپ فائنل فیز میں داخل ہو گیا ہے۔
اس اہم ترین کامیابی کے بعد باقاعدہ طور پر پی آئی اے سیفٹی آڈٹ کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ قومی ائیرلائن کا سیکیورٹی مینوئل اور آپریشنل مینجمنٹ اب بین الاقوامی ہوا بازی کے کونسل رولز کے عین مطابق ہو چکی ہے۔ نئے چیئرمین نے چارج سنبھالتے ہی مینوئل فلائٹ لاگز کے روایتی کسٹمز کو بدل کر سوفٹ وئیر بیسڈ اور کلاؤڈ مانیٹرنگ کے جدید پیرامیٹرز نافذ کیے تھے جس کے باعث عالمی آڈٹ ٹیموں نے پی آئی اے کے تمام شعبوں کا تفصیلی اور سائنسی معائنہ کرنے کے بعد اسے کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔
نئے چیئرمین کا اسمارٹ ایکشن پلان اور آپریشنل مینوفیکچرنگ
پی آئی اے کے ترجمان اور ایوی ایشن مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بین الاقوامی آڈٹرز نے طیاروں کی دیکھ بھال ، فلائٹ آپریشنز، کارگو ہینڈلنگ اور گراؤنڈ سیکیورٹی جیسے نازک شعبوں کا باریک بینی سے سوفٹ ویئر آڈٹ مکمل کیا۔
نئے چیئرمین کے نافذ کردہ اسمارٹ سیکیورٹی فریم ورک کے بنیادی خدوخال درج ذیل خطوط پر مینوفیکچر کیے گئے ہیں:
پائلٹ لائسنس کا بائیومیٹرک آڈٹ: ماضی کے لوپ ہولز اور مینوئل خرابیوں کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے تمام پائلٹس اور عملے کے تعلیمی و پروفیشنل ریکارڈز کو نادرا اور سول ایوی ایشن کے کلاؤڈ پورٹل سے لنک کر کے 100 فیصد وائٹ لسٹ کر دیا گیا ہے۔
طیاروں کی اسمارٹ اسکیننگ: فضائی بیڑے میں شامل تمام بوئنگ اور ایئربس طیاروں کی میکانکی اور الیکٹرانکس کیپیسٹی کا سائنسی آڈٹ کیا گیا ہے تاکہ فلائٹ کے دوران کسی بھی ناگہانی فنی خرابی کا سراغ سیکنڈوں میں لگایا جا سکے۔
پیپر لیس فلائٹ لاگز : پائلٹس اور کیبن کریو کے ٹائم شیڈول اور ڈیوٹی لاگز کو پیپر لیس کر کے خودکار سوفٹ ویئر سسٹم کے سپرد کر دیا گیا ہے جس میں کسی بھی مینوئل ردوبدل کی گنجائش بالکل ختم کر دی گئی ہے۔
یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری کوریڈور اور کیش لیس ریوینیو کا معاشی گراف
معاشی ماہرین اور فنانشل مینیجرز کے مطابق اس بین الاقوامی سیفٹی آڈٹ کو پاس کرنا پی آئی اے کے نجکاری کے عمل اور ملکی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تھا۔ یورپی یونین (EU) کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث قومی ایئرلائن کو سالانہ اربوں روپے کا بھاری فنانشل نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کسٹمرز متبادل مہنگی غیر ملکی ائیرلائنز استعمال کرنے پر مجبور تھے۔
اب اس تاریخی بریک تھرو کے بعد پی آئی اے کو لندن، پیرس، فرینکفرٹ اور نیویارک جیسے ہائی ریوینیو کوریڈورز پر دوبارہ براہِ راست پروازیں چلانے کا لائسنس مل جائے گا۔ اس فنانشل کلوڈ بحالی سے ایئرلائن کی ماہانہ آمدنی کا گراف مستقل طور پر اوپر جائے گا اور کیش لیس ریوینیو کا فلو براہِ راست پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں آئے گا، جو ملکی معاشی اشاریوں کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔
کسٹمرز کے لیے ڈیجیٹل ہیلپ ڈیسک اور لائیو فلائٹ ٹریکنگ
پی آئی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی ہوا بازی کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل مانیٹرنگ کا نظام فعال رکھ رہی ہے۔ پبلک انفارمیشن انڈیکس کو بہتر بنانے اور مسافروں کی فوری تکنیکی معاونت کے لیے ایئرلائن نے اپنے آن لائن پورٹل پر ایک لائیو ڈیجیٹل ہیلپ ڈیسک اور یونیورسل ہیلپ لائن کو متحرک کر دیا ہے۔ یہاں سے مسافر اپنی ٹکٹ بکنگ، فلائٹ ٹائم ٹیرف رولز اور سامان کے لاجسٹک کسٹمز کا سائنسی آڈٹ گھر بیٹھے منٹوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔ اینٹی اسمگلنگ اور سیکیورٹی کیمروں کی کڑی مانیٹرنگ سے آراستہ یہ نیا اسمارٹ رخ بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج مستقل طور پر فروغ دے گا۔






