پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری شفا خانے، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں پیش آنے والے ہولناک اور دلدوز حادثے کے بعد سسکتی ہوئی معصوم زندگی بالآخر خاموش ہو گئی ہے۔ پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نوانیٹل نرسری میں لگنے والی ہولناک آگ سے معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والی واحد نوزائیدہ بچی کئی ہفتوں تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU) میں زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد وینٹی لیٹر پر دم توڑ گئی ہے۔
اس انتہائی دردناک واقعے کے بعد پمز ہسپتال آگ بچہ انتقال کا یہ معاملہ پورے ملک میں شدید سوگ اور صدمے کی لہر دوڑا چکا ہے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی آفیشل مینوفیکچرنگ اور میڈیکل مینیجرز نے تصدیق کی ہے کہ معصوم بچی شدید جھلس جانے اور زہریلے دھوئیں کے باعث پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن کا شکار تھی۔ ڈاکٹروں کی آخری لمحے تک کی جانے والی تمام تر سائنسی اور سوفٹ وئیر بیسڈ کوششوں کے باوجود اسے بچایا نہیں جا سکا جس سے اس قیامت خیز حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی کل تعداد اب 15 تک پہنچ گئی ہے۔
نرس رضیہ نورین کی کوشش اور بچی کی آخری سانسوں کا احاطہ
یاد رہے کہ 26 اگست 2026 کو پمز ہسپتال کی نرسری میں ایئر کنڈیشننگ یونٹ کے پھٹنے اور شارٹ سرکٹ کے باعث اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس وارڈ میں گنجائش سے زیادہ یعنی 10 بچوں کے بجائے 15 طبی طور پر کمزور نوزائیدہ بچے زیرِ علاج تھے۔ آگ اتنی شدید تھی کہ چند ہی سیکنڈز میں پورے کلوڈ وارڈ میں کالا دھواں پھیل گیا اور 14 معصوم بچے موقع پر ہی جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔
اس بھیانک مینوئل ایمرجنسی کے دوران ہسپتال کی بہادر اسٹاف نرس رضیہ نورین نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دھوئیں کے مرغولوں سے اس آخری بچی کو زندہ نکالنے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نرس کی اس جرات پر انہیں 1 کروڑ روپے کا فنانشل انعام اور صدارتی تمغۂ شجاعت دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم وہ معصوم بچی جس کی جان بچانے کے لیے پورا ملک دعاگو تھا بالآخر زخموں کی شدت کے باعث اپنے والدین کو ہمیشہ کا داغِ مفارقت دے گئی۔
ہسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور وزارتِ صحت کا کڑا قانونی ایکشن
اس دلخراش واقعے نے پاکستان کے ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر، ہاسپٹل سیفٹی اور انتظامی مینیجرز کی سنگین غفلت کو ایک بار پھر پبلک کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ انکوائری رپورٹ کے سائنسی آڈٹ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں فائر الارم سافٹ ویئر اور ہنگامی اخراج کے مینوئل راستے موجود نہیں تھے جبکہ آکسیجن سپلائی زیادہ ہونے کی وجہ سے آگ سیکنڈوں میں پھیل گئی۔
اس سٹرکچرل ناکامی پر وفاقی وزیرِ صحت نے سخت ریگولیٹری ایکشن لیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ذریعے پمز ہسپتال کے 9 اعلیٰ ترین افسران اور سیکیورٹی مینیجرز کے خلاف باقاعدہ فوجداری مقدمات درج کر کے انہیں معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے سوگوار خاندانوں کے لیے فنانشل سبسیڈیز اور کیش لیس معاوضے لاک کر دیے ہیں لیکن معصوم بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مالیاتی فنڈ ان کے جگر کے ٹکڑوں کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ تمام سرکاری ہسپتالوں کو اب لازمی ڈیجیٹل سیفٹی کٹس لگانے کا سخت روڈ میپ جاری کر دیا گیا ہے۔






