پاکستان کی میکرو اکانومی، مالیاتی پالیسیوں، سماجی تحفظ کے نیٹ ورکس اور آبادیاتی پھیلاؤ کے حوالے سے ایک انتہائی ہولناک اور آنکھیں کھول دینے والا معاشی جیو پولیٹیکل منظرنامہ سامنے آیا ہے۔ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی والے ملک میں بڑھاپے کا معاشی تحفظ اس وقت تاریخ کے سنگین ترین خطرات سے دوچار ہے۔ اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ ملک کی ورکنگ ایج پاپولیشن (کام کرنے کے قابل آبادی) کی ایک بہت بڑی اکثریت ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی قسم کے فنانشل سپورٹ یا باقاعدہ پنشن سے مکمل طور پر محروم ہے۔
اس بحران پر روشنی ڈالتے ہوئے ای ایف یو لائف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد علی احمد نے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ جنوری 2021 سے لے کر اب تک پاکستان میں پنشن فنڈز کے زیرِ انتظام اثاثوں کا حجم 333 فیصد ریکارڈ اضافے کے ساتھ 156 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے لیکن یہ حجم ملک کی مجموعی آبادی کی ضروریات کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ ملک کا موجودہ فنانشل فریم ورک اور مینوئل کسٹمز کروڑوں شہریوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کلاؤڈ سیکیورٹی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں جس کے باعث پاکستان میں بوڑھے افراد کا معاشی انڈیکس تیزی سے گر رہا ہے۔
134 ملین کی لیبر فورس اور غیر رسمی شعبے کا ہولناک بوجھ
پاکستان کی آبادیاتی ساخت کا سائنسی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں اس وقت 134.4 ملین (13 کروڑ 44 لاکھ) افراد پر مشتمل ورکنگ ایج پاپولیشن موجود ہے جو ملکی معیشت کا اصل انجن ہے۔ دوسری جانب، 60 سال اور اس سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کی تعداد بھی 13.5 ملین (1 کروڑ 35 لاکھ) سے تجاوز کر چکی ہے۔ اتنے بڑے انسانی سرمائے کے باوجود ملکی افرادی قوت کا ایک بہت بڑا حصہ معاشی تحفظ کے دائرے سے باہر ہے۔
اس لاجسٹک اور اسٹرکچرل بحران کی سب سے بڑی وجہ درج ذیل معاشی حقائق ہیں:
72.1 فیصد غیر رسمی روزگار: پاکستان میں کام کرنے والے 72.1 فیصد ملازمین غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں جن میں دہاڑی دار مزدور، کسان، چھوٹی دکانوں کے ملازمین اور فری لانسرز شامل ہیں۔ یہ کروڑوں کسٹمرز کسی بھی سرکاری یا نجی مینوفیکچرڈ پنشن اسکیم کا حصہ نہیں ہیں۔
نجی اداروں میں پنشن کسٹمز کا فقدان: پبلک سیکٹر کے برعکس پاکستان کے نجی کارپوریٹ سیکٹر میں ریٹائرمنٹ کے بعد ماہانہ آمدنی فراہم کرنے کا کوئی خودکار سوفٹ وئیر یا لازمی قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے جس سے ملازمین صرف پراویڈنٹ فنڈ کی عارضی یکمشت رقم پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
والنٹری پنشن اسکیمز (VPS) میں عدم دلچسپی اور اسمارٹ ڈیٹا لوپ ہولز
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے نجی انشورنس کمپنیوں کے اشتراک سے متعارف کرائی گئی والنٹری پنشن اسکیمز کا ڈیٹا انتہائی مایوس کن ہے۔ دسمبر 2025 کے آفیشل مینوئل ریکارڈ کے مطابق 134 ملین کی ورکنگ ایج پاپولیشن میں سے صرف 143,000 فعال اکاؤنٹس رجسٹرڈ ہو سکے ہیں۔
یہ شرح سائنسی بنیادوں پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ عام شہریوں میں طویل مدتی بچت اور ریٹائرمنٹ پلاننگ کا شعور نہ ہونے کے برابر ہے۔ عام کسٹمرز اپنے فنانشل فنڈز کو کسی ڈیجیٹل کلاؤڈ پورٹل یا انشورنس انڈیکس میں لاک کرنے کے بجائے نقد رکھنے یا روایتی ریل اسٹیٹ کے مینوئل کسٹمز میں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے معاشی اشاریوں میں کیش لیس ریوینیو کا فلو متاثر ہوتا ہے۔
معاشی اشاریوں پر اثرات اور پبلک سیکٹر پنشن کا مالیاتی دباؤ
جہاں غیر رسمی شعبہ پنشن سے محروم ہے وہاں دوسری طرف حکومتِ پاکستان کے اپنے پبلک سیکٹر ملازمین کا روایتی پنشن نظام وفاقی اور صوبائی بجٹ کے لیے ایک ناقابلِ برداشت مالیاتی بوجھ بن چکا ہے۔ سالانہ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ صرف ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی پراجیکٹس اور ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کے لیے فنڈز کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے۔
اگر یہ مینوئل سسٹم اسی طرح چلتا رہا تو اگلے چند سالوں میں ملکی ریوینیو کا ایک بڑا حصہ صرف پنشن واجبات کی نذر ہو جائے گا جو پاکستان کے مجموعی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو مزید گرانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس مالیاتی دباؤ کو کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف (IMF) نے بھی حکومت کو اپنے پنشن ماڈل کو فوری طور پر سوفٹ وئیر بیسڈ کنٹری بیوٹری پنشن سسٹم میں تبدیل کرنے کا پابند کیا ہے
مستقبل کا روڈ میپ: اینوایٹی اور فیزڈ ودڈرال کا نفاذ
پاکستان کو اس ابھرتے ہوئے سماجی اور معاشی بحران سے بچانے کے لیے کارپوریٹ مینیجرز اور فنانشل ایکسپرٹس نے ایک نیا اور جامع اصلاحاتی روڈ میپ پیش کیا ہے۔ ملک کو روایتی مینوئل طریقوں سے نکل کر ڈیجیٹل اور پائیدار فنانشل پروڈکٹس متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں درج ذیل تین بنیادی سائنسی حل نافذ کیے جانے چاہئیں:
اینوایٹی پیمنٹس کا فروغ: شہریوں کو ایسی انشورنس پالیسیز فراہم کی جائیں جہاں وہ اپنی ملازمت کے دوران چھوٹی اقساط جمع کرائیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں تاحیات ماہانہ آمدنی کا خودکار ڈیجیٹل کریڈٹ مل سکے۔
فیزڈ ودڈرال کا سوفٹ وئیر: یکمشت رقم نکالنے کے بجائے فنڈز کو مراحل وار ریلیز کرنے کا اسمارٹ سسٹم بنایا جائے تاکہ بزرگ شہری اپنی رقم کو طویل عرصے تک مینیج کر سکیں۔
ایس آئی ایف سی کے تحت لازمی نجی پنشن قوانین: حکومت کارپوریٹ سیکٹر کے لیے لازمی قرار دے کہ وہ ہر ملازم کا نادرا شناختی کارڈ لنکڈ ڈیجیٹل پنشن اکاؤنٹ کھولیں، جس میں ایمپلائر اور ملازم دونوں کا کنٹری بیوشن شامل ہو۔
پاکستان کا یہ اسمارٹ معاشی رخ نہ صرف بزرگوں کو ریلیف دے گا بلکہ بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کر کے ملکی سرمائے کو آفیشل فنانشل چینلز میں لائے گا جو طویل مدتی معاشی استحکام کا واحد راستہ ہے۔






