پاکستان اور چین کے مابین قائم دیرینہ، آزمودہ اور ہمالیہ سے بلند اسٹریٹجک و اقتصادی تعلقات کو موجودہ جیو پولیٹیکل منظرنامے کے مطابق مزید مستحکم اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک بڑا تزویراتی عزم ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے ساتھ ہر شعبے میں تعلقات کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد بیجنگ کے ساتھ اپنے سفارتی اور معاشی کوریڈورز کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقات کے دوران، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے چین کے لیے پاکستان کے نومنتخب اور نامزد سفیر علی اسد گیلانی سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس ملاقات کا بنیادی محور پاک چین تزویراتی شراکت داری کے پورے فریم ورک کا سائنسی جائزہ لینا اور دونوں برادر ممالک کے مابین مینوئل ورکنگ ریلیشنز کو تیز رفتار کلاؤڈ اور ڈیجیٹل کوآپریشن میں تبدیل کرنا ہے تاکہ سی پیک فیز 2 کے تمام پراجیکٹس کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جا سکے۔
سی پیک فیز 2 اور شعبوں میں سرمایہ کاری کا نیا ماسٹر پلان
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نامزد سفیر علی اسد گیلانی کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کا وسیع مینیجرز ایکسپیرئنس چین کے ساتھ تعلقات کو مزید فول پروف بنانے میں کلیدی ثابت ہوگا۔
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے سفارتی کوریڈور کو واضح گائیڈ لائنز فراہم کرتے ہوئے درج ذیل اسٹریٹجک شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی:
تجارت اور سرمایہ کاری : پاکستان کی ٹیک اور میڈیکل ایکسپورٹس کو چینی مارکیٹ تک آسان رسائی فراہم کرنا اور مینوئل کسٹمز ڈیوٹی کو سوفٹ وئیر اسکیننگ کے ذریعے آسان بنانا۔
زراعت اور لائیو اسٹاک: چین کے تعاون سے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ، جدید بیجوں کی مینوفیکچرنگ اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے سائنسی ماڈلز کا نفاذ۔
سائنس اور ٹیکنالوجی: آئی ٹی سیکٹر میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور سائبر سیکیورٹی نیٹ ورکس کے شعبوں میں چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ فنڈنگ پراجیکٹس کا آغاز۔
مواصلاتی نیٹ ورکس اور عوامی روابط کا فروغ
وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاک چین تعلقات صرف سرکاری سطح تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا اصل محور دونوں ممالک کے عوام کے مابین گہرے کسٹمز اور ثقافتی روابط ہیں۔ اسحاق ڈار نے نامزد سفیر کو ٹاسک دیا کہ وہ بیجنگ میں قیام کے دوران چینی تعلیمی اداروں اور پاکستانی یونیورسٹیوں کے مابین سوفٹ وئیر اور اسٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرامز کو تیز کریں۔
اس کے علاوہ، پاکستان کے انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں چینی الیکٹرک وہیکلز (EVs) کی مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے کے لیے نجی کارپوریٹ مینیجرز کو خصوصی فنانشل سبسیڈیز فراہم کرنے کے روڈ میپ پر بھی کام کیا جائے گا، جو ملکی معاشی اشاریوں کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔






