پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ تزویراتی، معاشی اور سفارتی تعلقات کے تناظر میں سوشل میڈیا اور بعض غیر ذمہ دار ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی افواہوں پر وفاقی حکومت کی جانب سے ایک قطعی اور حتمی بریکنگ بیانیہ سامنے آیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے باقاعدہ میڈیا بریفنگ کے دوران ان تمام خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ابوظہبی کی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے لیے سفری ویزوں پر کوئی نئی پابندی عائد کر دی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ سفیر سجاد حیدر خان نے پریس کانفرنس کے دوران اعداد و شمار پر مبنی ایک جامع مینوئل پیش کیا، جس نے یو اے ای ویزا پابندی افواہیں پھیلانے والے عناصر کے دعووں کوغلط ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمینی حقائق من گھڑت قیاس آرائیوں کے بالکل برعکس ہیں اور دونوں برادر ممالک کے مابین افرادی قوت کی منتقلی اور ورک پرمٹ سوفٹ ویئر سسٹمز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
دفترِ خارجہ کے پیش کردہ اعداد و شمار اور ویزا اجرا کا حجم
حکومتی ترجمان نے میڈیا مینیجرز کے سامنے وفاقی ڈیٹا بیس کے تصدیق شدہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد وہاں سے واپس بھیجے جانے والے افراد کی نسبت سات گنا زیادہ ہے۔
اسٹرکچرل فریم ورک کے تحت جاری کردہ فائنینشل اور سفارتی انڈیکس درج ذیل ہے:
سالانہ ویزا کوٹہ: گزشتہ پانچ سالوں کے دوران متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ہر سال اوسطاً 40,000 سے 50,000 تک پاکستانیوں کو نئے ویزے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔
واپسی کی اوسط شرح: اس کے برعکس اوسطاً صرف 7,000 سے 8,000 افراد سالانہ مختلف قانونی وجوہات کی بنا پر واپس بھیجے جاتے ہیں جو کہ کل ویزا ہولڈرز کا ایک انتہائی چھوٹا حصہ ہے۔
مضبوط افرادی قوت کی طلب: یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ اماراتی مارکیٹ میں پاکستانی کسٹمرز (ورکرز) کی طلب ریکارڈ حد تک برقرار ہے اور سفارتی تعلقات مثبت ڈائریکشن میں گامزن ہیں۔
مسافروں کی واپسی کے مینوئل اسباب اور امیگریشن قوانین کی سختی
دفترِ خارجہ نے ان وجوہات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی جن کی وجہ سے چند سو مسافروں کو اماراتی ایئرپورٹس سے کسٹمز رولز کے تحت واپس بھیجا گیا یا ان کے ویزے معطل کیے گئے حکومت نے واضح کیا کہ انفرادی کیسز کو بنیاد بنا کر پورے ملک پر پابندی کا تاثر دینا سراسر گمراہ کن ہے۔
واپس بھیجے جانے والے افراد کے ریکارڈ کا آڈٹ کرنے پر درج ذیل بنیادی لوپ ہولز سامنے آئے ہیں:
غیر قانونی قیام : ایسے کسٹمرز جو تین ماہ کا وزٹ ویزا ختم ہونے کے بعد بھی وہاں مینوئل طریقے سے روپوش ہو گئے اور غیر قانونی حیثیت اختیار کر لی۔
معمولی جرائم اور لڑائی جھگڑے: پبلک مقامات پر قوانین کی خلاف ورزی، جھگڑوں میں ملوث ہونا، یا سوشل میڈیا پر اماراتی ثقافت کے خلاف مواد شیئر کرنا۔
دستاویزی خامیاں: رجسٹرڈ ایجنٹس کے بجائے غیر قانونی کلوڈ پورٹلز سے اپلائی کرنا یا جعلی تعلیمی اسناد جمع کرانا جس کی وجہ سے بائیومیٹرک اسکیننگ کے دوران ان کے ویزے مسترد ہوئے۔
اماراتی قوانین کی پاسداری اور مسافروں کے لیے ریگولیٹری گائیڈ لائنز
حکومتِ پاکستان نے خلیجی ممالک میں مقیم اپنے 18 لاکھ سے زائد سمندر پار مینیجرز اور عازمین کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی قوانین اور ویزا شرائط کا احترام کریں۔ وزرائے کونسل کے رولز کے مطابق، وزٹ ویزا پر نوکری کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور خلاف ورزی پر فوری بے دخلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کسی بھی قسم کی فنی خرابی یا ویزا اسٹیٹس چیک کرنے کے لیے مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ نادرا (NADRA) اور اماراتی امیگریشن کے آفیشل پورٹلز کا استعمال کریں اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے براہِ راست سفارتی ڈیسک سے تکنیکی آڈٹ کروائیں۔ پاکستان کا یہ واضح موقف بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کر کے دونوں ممالک کے سافٹ امیج کو مستقل فروغ دے گا۔






