پاکستان بھر میں پاسپورٹ بنوانے والے کروڑوں عازمین اور کسٹمرز کے لیے ایک انتہائی اہم، ہنگامی اور تزویراتی ریگولیٹری مینوئل جاری کیا گیا ہے۔ جس کا اثر روزمرہ کی ادائیگیوں پر پڑے گا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے باقاعدہ پبلک نوٹس جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب تمام درخواست گزاروں کے لیے اپنے پاسپورٹ کے فنانشل واجبات جمع کرانے کا واحد اور قانونی ذریعہ صرف اور صرف آفیشل پاسپورٹ فیس راست کیو آر کوڈ ہوگا۔
محکمے کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اسمارٹ ہدایات کے مطابق اب مینوئل دفتری تاخیر اور بینکنگ لوپ ہولز کا خاتمہ کرنے کے لیے پرانے تمام ڈیجیٹل کسٹمز کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی شہری نے پرانے مینوئل طریقوں پر عمل کرتے ہوئے رقم منتقل کی تو اس کی درخواست کو سافٹ ویئر سسٹم میں قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا ٹوکن جنریٹ ہو سکے گا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے انفراسٹرکچر مینیجرز نے پبلک نوٹس میں وضاحت شامل کی ہے کہ اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈیجیٹل پیمنٹ گیٹ وے راست کے علاوہ کوئی دوسرا مالیاتی ٹیرف قبول نہیں کیا جائے گا۔
نئے فریم ورک کے تحت درج ذیل دو مینوئل طریقوں کو مستقل بلاک کر دیا گیا ہے:
آئی بی ایف ٹی کی ممانعت: کسی بھی بینک اکاؤنٹ سے انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر کے ذریعے آئی بی اے این نمبر پر کی جانے والی براہِ راست ادائیگیاں اب غیر فعال قرار دے دی گئی ہیں۔
پاسپورٹ فیس آسان ایپ کی معطلی: ماضی میں استعمال ہونے والی موبائل ایپلی کیشن کے تحت جنریٹ ہونے والا پی ایس آئی ڈی نمبر اب فنانشل سسٹم سے خارج کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مینیجرز کے مطابق اس سخت فیصلے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ پرانے مینوئل سسٹمز میں ٹرانزیکشن کی لائیو اسکیننگ اور بائیومیٹرک لنکنگ میں کئی گھنٹے لگ جاتے تھے جس سے کسٹمرز کے پاسپورٹ مینوفیکچرنگ ڈیٹا میں تاخیر کا انڈیکس بڑھ رہا تھا۔
کیو آر کوڈ اسکیننگ کا طریقہ
شہریوں کی آسانی اور وقت کی بچت کے لیے اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ سسٹم کو 100 فیصد کیش لیس اور انسٹنٹ بنا دیا گیا ہے۔ درخواست گزار درج ذیل مراحل کو فالو کر کے اپنی فیس سیکنڈوں میں لاک کر سکتے ہیں:
آفیشل پورٹل پر لاگ ان: محکمے کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں اور اپنی کیٹیگری کا انتخاب کریں۔
راست کیو آر کوڈ کی جنریشن: فارم فلنگ کے بعد اسکرین پر اسٹیٹ بینک کا تصدیق شدہ راست کیو آر کوڈ لائیو ظاہر ہوگا۔
موبائل بینکنگ سے اسکیننگ: کسٹمر اپنے کسی بھی بینک کی موبائل ایپ، ایزی پیسہ یا جیز کیش کے کلاؤڈ والٹ کو اوپن کر کے اس کیو آر کوڈ کو لائیو اسکین کرے گا۔ فیس کی ادائیگی منٹوں کے بجائے ملی سیکنڈز میں ٹریک ہو جائے گی اور نادرا و پاسپورٹ کلاؤڈ ڈیٹا بیس میں آٹو جنریٹڈ الرٹ ڈیجیٹل رسید کے ساتھ اپ لوڈ ہو جائے گا۔
محکمہ امیگریشن نے تمام کسٹمرز کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر مجاز ایجنٹ یا مینوئل مافیا کو نقد رقم دینے سے مکمل گریز کریں کیونکہ اب پورا امیگریشن کوریڈور پیپر لیس ہو چکا ہے۔ اگر کسی کسٹمر کو کیو آر کوڈ اسکیننگ کے دوران کسی بھی تکنیکی خرابی کا سامنا ہو تو وہ فوری طور پر ڈی جی آئی پی کی آفیشل ویب سائٹ پر لاگ ان کر کے لائیو سپورٹ حاصل کر سکتا ہے یا ان کی یونیورسل ہیلپ لائن پر کال کر کے اپنے ٹرانزیکشن لاگز کا تکنیکی آڈٹ کروا سکتا ہے۔ یہ نیا سمارٹ فریم ورک بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کر کے پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل فروغ دے گا۔






