پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو باقاعدہ بنانے کے حوالے سے ایک بڑی اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں بشمول کرپٹو کرنسیوں کے لین دین کے شرعی پہلوؤں پر رہنمائی کے لیے ایک باقاعدہ شریعہ ایڈوائزری بورڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ اس اہم ترین بورڈ کی تشکیل اور ڈیجیٹل اثاثوں کے مستقبل کے ریگولیٹری فریم ورک کے لیے ملک کے مایہ ناز اسلامی سکالر اور فقیہ مفتی محمد تقی عثمانی کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور ان سے شرعی رہنمائی طلب کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ اس سے قبل کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے اسلامی حلقوں میں شدید تحفظات پائے جاتے تھے۔
ماضی کا فتوٰی اور حالیہ مثبت پیش رفت
یاد رہے کہ جون 2026 میں جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے مفتی تقی عثمانی صاحب کی زیرِ نگرانی ایک فتوٰی جاری کیا گیا تھا۔ جس میں کرپٹو کرنسی، کرپٹو ٹوکنز اور سٹیبل کوائنز (جیسے USDT) کی ٹریڈنگ اور ان کے ذریعے خریداری کو غیر شرعی (ناجائز) قرار دیا گیا تھا۔ فتوے کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ ماہرین کی تحقیق کے مطابق موجودہ کرپٹو کرنسیاں شریعت کی رو سے مال یا حقیقی دولت کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں، بلکہ یہ محض اکاؤنٹ میں فرضی نمبروں کا اندراج ہیں جن کے پیچھے کوئی مادی اثاثے یا حکومتی سرپرستی موجود نہیں ہے۔
تاہم اس فتوے کے بعد PVARA کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے مفتی تقی عثمانی صاحب سے ایک تفصیلی اور تعمیری ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے وضاحت کی کہ بلاک چین انفراسٹرکچر، ٹوکنائزڈ ریئل ورلڈ اثاثے (اثاثوں سے منسلک ٹوکنز) اور سٹیبل کوائنز محض سٹے بازی نہیں ہیں، بلکہ یہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز ہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اگر ڈیجیٹل اثاثوں کے پیچھے حقیقی مادی اثاثے موجود ہوں یا انہیں ریاست کی قانونی سرپرستی اور تحفظ حاصل ہو، تو ان کے شرعی جواز پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
شریعہ ایڈوائزری بورڈ کا دائرہ کار اور اہمیت
اب حکومتِ پاکستان کی جانب سے مفتی تقی عثمانی کرپٹو کرنسی شریعہ بورڈ کی طرز پر اس ایڈوائزری کمیٹی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اس مجوزہ بورڈ کا بنیادی کام یہ جانچنا ہوگا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کا لین دین کس حد تک اور کن شرائط کے تحت اسلامی اصولوں کے مطابق ہو سکتا ہے۔ اس بورڈ کے قیام سے پاکستانی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دہی، فراڈ اور مالیاتی نقصان سے بچانے میں مدد ملے گی جبکہ دوسری طرف ملک کی دستاویزی معیشت میں بلاک چین ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ اقدام نہ صرف ریگولیٹرز اور علمائے کرام کے درمیان خلیج کو کم کرے گا بلکہ پاکستان میں اسلامی بینکنگ کے دائرہ کار کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔






