خیبر پختونخوا کے مواصلاتی نظام، پبلک ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی تحفظ کے نیٹ ورکس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ایک جامع اور مربوط ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا ہے، جسے باقاعدہ طور پر کے پی ٹرانسپورٹ پالیسی ڈرافٹ کا نام دیا گیا ہے۔
اس انقلابی پراجیکٹ کا بنیادی مقصد صوبے بھر کے شہری اور دیہی اضلاع میں پبلک ٹرانسپورٹ کے روایتی اور مینوئل کسٹمز کو ختم کرنا ہے گ۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کلاؤڈ سسٹمز اور گرین انرجی کے انضمام کے ذریعے ایک ایسا پائیدار مواصلاتی نیٹ ورک مینوفیکچر کیا جا رہا ہے جو نہ صرف شہریوں کو سستی سفری سہولیات فراہم کرے گا بلکہ صوبے میں ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ کے خطرات کو بھی جڑ سے ختم کر دے گا۔
الیکٹرک وہیکلز (EVs) کا نفاذ اور گرین انرجی کوریڈورز کی اسکیننگ
کے پی ٹرانسپورٹ پالیسی کے اسٹرکچرل ڈرافٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں گرین ٹیکنالوجی کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے پشاور، مردان، ایبٹ آباد اور سوات جیسے بڑے شہروں کے لیے ایک مخصوص ای-روڈ میپ تیار کیا ہے۔
اس پالیسی کے بنیادی سائنسی اور تکنیکی خدوخال درج ذیل ہیں:
الیکٹرک وہیکلز کی حوصلہ افزائی: پبلک ٹرانسپورٹ میں روایتی ایندھن (پٹرول/ڈیزل) کی گاڑیوں کو مرحلہ وار ختم کر کے لیتھیم آئن اور لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں سے لیس الیکٹرک بسوں اور رکشوں کو متعارف کرایا جائے گا۔
چارجنگ انفراسٹرکچر کا قیام: تمام ہائی ویز، موٹر ویز اور بڑے بس ٹرمینلز پر خودکار سوفٹ وئیر بیسڈ ای وی چارجنگ اسٹیشنز مینوفیکچر کیے جائیں گے۔
ٹیکس اور ریگولیٹری رعایتیں: ماحول دوست گاڑیاں امپورٹ یا لوکل لیول پر اسمبل کرنے والی کمپنیوں کو کسٹمز ڈیوٹی اور صوبائی ٹیرف میں خصوصی فنانشل سبسیڈی دی جائے گی۔
بی آر ٹی (BRT) نیٹ ورک کی توسیع اور ڈیجیٹل ٹکٹنگ کا مینوئل
پشاور زو ارم بی آر ٹی (Zu Peshawar BRT) کی شاندار کامیابی کے بعد، اس نئے سفری مینوئل کے تحت ماس ٹرانزٹ سسٹم کا دائرہ کار دیگر اضلاع تک وسیع کیا جا رہا ہے۔ پالیسی کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ سروسز کو مکمل طور پر پیپر لیس اور کیش لیس بنانے کے لیے سینٹرلائزڈ سوفٹ ویئر نیٹ ورک نافذ کیا جائے گا۔
سافٹ ویئر مینجمنٹ کے تحت درج ذیل 3 بڑے اسمارٹ فیچرز متعارف کرائے جا رہے ہیں:
یونیفائیڈ کیو آر کوڈ ٹکٹنگ: مسافروں کو مینوئل نقد ادائیگیوں کے بجائے موبائل ایپ اور کیو آر کوڈ اسکیننگ کے ذریعے کرایہ ادا کرنے کی سہولت میسر ہوگی ۔
لائیو بس ٹریکنگ سسٹم: کلاؤڈ بیسڈ جی پی ایس مانیٹرنگ کے ذریعے شہری اپنے موبائل اسکرین پر بسوں کی لائیو لوکیشن اور پہنچنے کا درست وقت دیکھ سکیں گے۔
خواتین اور معذور افراد کا کوٹہ: تمام پبلک بسوں اور ٹرمینلز کے اندر خواتین، بزرگوں اور خصوصی افراد کے لیے الگ اور محفوظ نشستوں کا کوٹہ قانونی طور پر فکس کیا گیا ہے۔
روڈ سیفٹی آڈٹ اور ڈرائیونگ لائسنسنگ سافٹ ویئر کی اپ گریڈیشن
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ اس پالیسی کے تحت صوبے بھر کی تمام بڑی شاہراہوں کا سائنسی بنیادوں پر روڈ سیفٹی آڈٹ کیا جائے گا تاکہ حادثات کے بلیک اسپاٹس کا سراغ لگا کر انہیں تکنیکی طور پر ٹھیک کیا جا سکے۔ مزید برآں نادرا (NADRA) کے بائیومیٹرک اسکیننگ پورٹل کے ساتھ مربوط ایک نیا ڈرائیونگ لائسنسنگ سوفٹ ویئر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جو مینوئل سفارش اور جعلی لائسنسوں کے کسٹمز کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے گا گ۔ صوبائی کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد اس پالیسی کو باقاعدہ قانون کی شکل دے دی جائے گی۔






