اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنی سفارتی مہارت کا لوہا منواتے ہوئے ایک تاریخی اور بے مثال کامیابی حاصل کی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی قیادت میں پیش کی جانے والی تاریخ کی پہلی معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کی قرارداد کو مکمل اتفاقِ رائے کے ساتھ منظور کر لیا ہے۔ یہ قرارداد دنیا بھر میں معذور افراد، بوڑھے لوگوں اور دائمی امراض میں مبتلا کروڑوں انسانوں کو سستی اور معیاری وہیل چیئرز، سماعت کے آلات ، مصنوعی اعضاء اور دیگر جدید آلات فراہم کرنے کے لیے ایک عالمی فریم ورک تشکیل دینے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔
سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب اور قرارداد کے بنیادی محرکات
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس تاریخی قرارداد کو باضابطہ طور پر منظوری کے لیے جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ قرارداد محض ایک دستاویز نہیں ہے بلکہ یہ اسسٹو ٹیکنالوجی کو دنیا کے وسیع تر ترقیاتی اور شمولیت کے ایجنڈے کا حصہ بناتی ہے۔ پاکستانی سفیر نے رکن ممالک پر زور دیا کہ معاون آلات تک آسان رسائی کا براہِ راست تعلق معذور اور عمر رسیدہ افراد کی تعلیم، روزگار، صحت، سماجی تحفظ اور معاشرے میں ان کی بامعنی شرکت سے ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے پاکستان نے عالمی سطح پر محروم طبقات کی آواز بن کر اپنا قائدانہ کردار ثابت کیا ہے۔
قرارداد کے اہم نکات اور عالمی برادری کے لیے تزویراتی اقدامات
پاکستان کی زیرِ قیادت منظور ہونے والی اس معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کی قرارداد میں عالمی برادری اور رکن ممالک کے لیے چند انتہائی اہم اور عملی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے:
سستی اور پائیدار رسائی: تمام ممالک کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے معیاری اور سستی معاون ٹیکنالوجی تک پائیدار رسائی کو یقینی بنائیں۔
قومی حکمتِ عملی اور ترجیحی فہرستیں: رکن ممالک کو حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ قومی سطح پر اسسٹو پروڈکٹس کی ترجیحی فہرستیں تیار کریں تاکہ ضرورت مندوں تک آلات کی فراہمی آسان ہو۔
تحقیق اور اختراع : قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معاون آلات کی تیاری کے لیے سائنسی تحقیق، جدید اختراعات اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
بامعنی شمولیت: ان آلات کا استعمال کرنے والے افراد کی آراء اور ان کی بامعنی شرکت کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔
The United Nations General Assembly has adopted by consensus a Pakistan-led first-ever resolution on “Access to Assistive Technology"@PakistanUN_NY @PakistanPR_UN @Asimiahmad @PakinUSA #PakistanAtUN #RadioPakistan #news https://t.co/iOBBh3fFYI pic.twitter.com/fVOSKmHmXN
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 3, 2026
پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی فتح اور اس کے اثرات
سفارتی ماہرین کے مطابق اس قرارداد کا بلا مقابلہ اور متفقہ طور پر منظور ہونا بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کی ایک بہت بڑی سفارتی فتح ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف روایتی سیاسی و سیکیورٹی امور بلکہ انسانی ہمدردی، سماجی ترقی اور حقوقِ انسانی کے عالمی ایجنڈے پر بھی دنیا کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس عالمی کامیابی سے پاکستان کا بین الاقوامی تشخص ایک ترقی پسند اور انسانی حقوق کے محافظ ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ اب پاکستان اپنے ملک کے اندر بھی اس کثیر الجہتی فریم ورک کو نافذ کر کے معذور افراد کے حقوق کو مزید تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔




