پاکستان نے علاقائی روابط اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک اور بہت بڑی اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ پاکستان ریلوے نے باقاعدہ طور پر روس کی مشہور لاجسٹکس کمپنی آر زیڈ ڈی لاجسٹکس کے ساتھ ایک اہم ترین فرائٹ فارورڈنگ کنٹریکٹ پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس تاریخی معاہدے کے تحت جڑواں خطوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے روس اور وسطی ایشیا کے لیے مال بردار ٹرین (پائلٹ کنٹینر فرائٹ ٹرین) چلانے کا فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ملکی برآمدات کو یورپی اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک سستی رسائی فراہم کرے گا بلکہ پاکستان ریلوے کے مالیاتی استحکام کے لیے بھی گیم چینجر ثابت ہوگا۔
اسلام آباد میں معاہدے پر دستخط اور پائلٹ پروجیکٹ کا فریم ورک
اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران پاکستان ریلوے اور روسی ریلوے لاجسٹکس کے حکام نے اس کثیر الجہتی لاجسٹکس سروس کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد ایک پائلٹ کنٹینر ٹرین کا آغاز کرنا ہے جو پاکستان کو ایران، ترکمانستان اور قزاقستان کے راستے روس سے منسلک کرے گی۔ اگرچہ موجودہ علاقائی تنازعات اور بارڈر مینجمنٹ کے مسائل کی وجہ سے اس پائلٹ ٹرین کے آغاز میں کچھ تاخیر کا سامنا ہے لیکن دونوں ممالک کے ریلوے حکام مسلسل رابطے میں ہیں اور جیسے ہی زمینی و سیکیورٹی صورتحال اجازت دے گی اس سروس کا باقاعدہ فیلڈ ٹرائل شروع کر دیا جائے گا۔
Pakistan Railways has signed a Freight Forwarding Contract with Russian Railways Logistics (RZD Logistics) to strengthen international freight transportation and multimodal logistics cooperation. Both sides have also agreed to launch a pilot container freight train to improve… pic.twitter.com/cAsBv80tBx
— Fetch Pakistan (@FetchPakistan) September 2, 2026
8,000 کلومیٹر طویل تجارتی روٹ اور سفری لاگت میں کمی
یہ بین الاقوامی مال بردار ٹرین روٹ تقریباً 8,000 کلومیٹر طویل خطے پر محیط ہوگا جسے بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق:
سفری وقت کی بچت: سمندری راستے کے مقابلے میں اس ریل روٹ کے ذریعے کارگو صرف 20 سے 25 دنوں میں ماسکو پہنچ جائے گا۔
کم لاگت: پائلٹ فیز کے دوران فی کنٹینر مال برداری کی لاگت روایتی بحری راستوں سے کہیں کم ہوگی جس سے پاکستانی تاجروں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
تکنیکی ہم آہنگی: ترکمانستان، قزاقستان اور روس کے ریلوے ٹریکس کے گیج آپس میں ہم آہنگ ہیں، جس کی وجہ سے ٹرین کی نقل و حرکت انتہائی ہموار ہوگی۔
پاکستان اور روس کے درمیان امپورٹ ایکسپورٹ کا نیا دور
روس اور وسطی ایشیا کے لیے مال بردار ٹرین کا یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ ایک ارب ڈالر کے باہمی تجارتی حجم کو دگنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان اس روٹ کے ذریعے روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو چمڑے کی مصنوعات، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات اور زرعی اجناس (جیسے چاول، پھل اور سبزیاں) برآمد کرے گا۔ دوسری جانب پاکستان روس سے سستی گندم، کھادیں، اسٹیل، پیٹرولیم مصنوعات اور خام مال درآمد کر سکے گا۔ یہ کوریڈور پاکستان کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بعد وسطی ایشیا کا سب سے اہم تجارتی مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
وزارتِ ریلوے کے مطابق یہ اشتراک صرف ٹرین چلانے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دونوں ممالک ریلوے ٹیکنالوجی، آپریٹنگ سسٹمز اور انفراسٹرکچر کی جدید کاری کے لیے بھی ایک دوسرے کو تکنیکی مہارت فراہم کریں گے۔






