پاکستان اور کرغزستان نے باہمی تعلقات میں ایک نئے سنہری دور کا آغاز کرتے ہوئے تجارتی، سفارتی اور معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور کرغز صدر صادر جباروف کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی باضابطہ گفتگو میں پاک کرغزستان اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کا عزم دہرایا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارتی حجم کو بتدریج 200 ملین (20 کروڑ) امریکی ڈالر تک لے جانے کے لیے ایک جامع اور عملی ایکشن پلان پر اتفاق کیا ہے جس سے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی روابط کو ایک نئی جلا ملے گی۔
ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ اور سسٹر سٹی ریلیشن شپ کا قیام
بشکیک میں ہونے والے اس تاریخی اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے متعدد اہم شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ ان میں سب سے اہم پیش رفت ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر دستخط ہونا ہے جس کے تحت پاکستان کی بندرگاہیں (کراچی اور گوادر) کرغزستان کو عالمی منڈیوں تک پہنچنے کا سب سے مختصر اور قدرتی راستہ فراہم کریں گی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور عوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے تاریخی شہر لاہور اور کرغزستان کے شہر اوش (Osh) کے درمیان سسٹر سٹی’ (Sister City) تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ دیگر معاہدوں میں ای کامرس، پوسٹل سروسز اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام شامل ہیں۔
Pakistan and Kyrgyzstan have agreed to strengthen their economic partnership@PakPMO #News #RadioPakistan https://t.co/uxSN9z6vRG pic.twitter.com/6COSd5MNM8
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 2, 2026
کاسا 1000 منصوبے کی جلد تکمیل اور توانائی ورکنگ گروپ
وزیر اعظم شہباز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاک کرغزستان شراکت داری میں توانائی کا شعبہ ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کے سب سے بڑے بجلی کی فراہمی کے منصوبے کاسا 1000 (CASA-1000) کی بروقت اور تیز رفتار تکمیل کی اہمیت پر زور دیا۔ اس تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دونوں ممالک نے توانائی پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا خیرمقدم کیا ہے، جو ہائیڈرو پاور (پن بجلی)، قابلِ تجدید توانائی ، اور جدید انرجی انفراسٹرکچر کی ترقی پر مل کر کام کرے گا۔
سیکیورٹی، ڈیجیٹل اثاثے اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر مشترکہ حکمتِ عملی
بات چیت کے دوران سیکیورٹی، دفاعی تعاون اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز بھی نمایاں رہے۔ دونوں ممالک نے خطے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھانے پر اتفاق کیا۔ کرغز صدر صادر جباروف نے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی صدارت سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی کے اس دور میں باہمی دوستی کو بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے فارماسیوٹیکل، زراعت، ڈیجیٹل اکانومی اور ورچوئل اثاثوں کے شعبوں میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو کرغزستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
یہ تاریخی دورہ اور پاک کرغزستان اقتصادی شراکت داری کا نیا فریم ورک خطے کی ترقی، معاشی استحکام اور سی پیک (CPEC) کے تحت وسطی ایشیائی ریاستوں کو جوڑنے کی پالیسی کا ایک اہم حصہ ثابت ہوگا۔






