پاکستان نے نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم مستقل عدالت برائے ثالثی میں بھارت کے خلاف ایک بہت بڑی اور تاریخی قانونی فتح حاصل کر لی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے اپنے تازہ ترین اور حتمی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں ممالک پر یکساں طور پر پابند ہے۔ عدالت نے بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا جس کے تحت اس نے گزشتہ سال معاہدے کو معطل یا التوا میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ سندھ طاس معاہدہ کیس میں پاکستان کی جیت خطے میں پانی کی سیکیورٹی اور پاکستان کے زرعی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بہت بڑا سنگِ میل ثابت ہوگی۔
عالمی عدالت کا تاریخی فیصلہ اور بھارت پر سخت پابندیاں
اگست 2026 کے آخری روز جاری کیے گئے اس عدالتی فیصلے میں مستقل عدالت برائے ثالثی نے متفقہ طور پر پاکستان کے موقف کو درست تسلیم کیا۔ عدالت نے بھارت کو حکم دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں متنازع رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاورپلانٹ پر تعمیراتی کام، بشمول ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کی بلندی کو فوری طور پر محدود کرے۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک عالمی بینک کا مقرر کردہ غیر جانبدار ماہر جولائی 2027 تک اپنا حتمی فیصلہ نہیں دے دیتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بھارت کسی بھی سیاسی فیصلے یا یکطرفہ بائیکاٹ کے ذریعے بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔
پس منظر: بھارت کا یکطرفہ اقدام اور پاکستان کی قانونی جدوجہد
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب اپریل 2025 میں نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے کشمیر میں ہونے والے ایک مبینہ عسکری حملے کو جواز بنا کر 65 سال پرانے پانی کے اس تاریخی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔ پاکستان نے بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کو عالمی سطح پر چیلنج کیا اور موقف اپنایا کہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے میں کسی بھی ملک کو اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنے یا معطل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اس اقدام نے پاکستان کے اصولی موقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔
پاکستان کی معیشت اور زراعت پر اس فیصلے کے اثرات
سندھ طاس معاہدہ کیس میں پاکستان کی جیت صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی بقا کی جنگ تھی۔ پاکستان ایک زیریں ملک ہونے کے ناطے اپنے مغربی دریاؤں—سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت، جو کہ ملکی جی ڈی پی کا 25 فیصد ہے انہی دریاؤں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ اگر بھارت مغربی دریاؤں پر غیر قانونی طور پر پانی کا ذخیرہ کرتا یا ڈیموں کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتا تو پاکستان میں قحط سالی اور پانی کی شدید لگی پیدا ہو سکتی تھی۔ اس عدالتی فیصلے نے پاکستان کے ان پانی کے حقوق کو بین الاقوامی قانون کے تحت ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔
اگرچہ بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی عدالت کے اس دائرہ اختیار اور فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کو سفارتی طور پر تنہا کر دیا ہے۔






