پاکستان کو بین الاقوامی ڈیجیٹل فنانس، فب ٹیک (FinTech) اور اگلی نسل کے ویب تھری (Web3) کوریڈورز میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کے لیے ہانگ کانگ میں ایک انتہائی اہم سفارتی اور معاشی مشن کامیابی سے مکمل ہوا ہے۔ وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ میں مالیاتی دنیا کے اعلیٰ مینیجرز اور ریگولیٹرز کے ساتھ اعلیٰ سطحی سیشنز کا انعقاد کیا ہے۔
آج، 29 اگست 2026 کو جاری ہونے والے آفیشل اعلامیے کے مطابق ان ہائی ٹیک ملاقاتوں کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل فنانس، ٹوکن ائزڈ کیپیٹل مارکیٹس ، ریگولیٹری جدت طرازی اور فرنٹیر ٹیکنالوجیز کے میدان میں دوطرفہ اسٹریٹجک تعاون کو پختہ بنانا ہے۔ پاکستان نے ماضی کی پابندیوں کی پالیسی کو بدل کر جو نیا ورچوئل اثاثوں کا ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا ہے یہ دورہ اس کے عملی نفاذ کے لیے ایک بڑا عالمی سنگِ میل ثابت ہو گا۔
ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی اور قانون ساز کونسل کے اراکین سے ملاقاتیں
اپنے تزویراتی دورے کے دوران چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ کے مالیاتی نظام کو کنٹرول کرنے والے سب سے بڑے مینیجرز اور پالیسی سازوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں درج ذیل اہم ترین شخصیات شامل تھیں:
ڈپٹی چیف ایگزیکٹو، ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی (HKMA): ہانگ کانگ کے مرکزی بینک کے حکام کے ساتھ ملاقات میں جدید مالیاتی مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سیکریٹری برائے فنانشل سروسز اینڈ ٹریژری: ہانگ کانگ کی وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ٹوکن ائزڈ فنانشل پروڈکٹس کے لیے کلاؤڈ اور سائنسی ریگولیٹری ماحول بنانے کے مینوئل پر گفتگو ہوئی۔
ممکنہ ممبر، لیجسلیٹو کونسل (قانون ساز کونسل): ہانگ کانگ کے مقننہ کے اراکین کے ساتھ بلاک چین اور ورچوئل اثاثوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے مینوفیکچرنگ اور سیکیورٹی قوانین کے تقابلی جائزے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ٹوکن ائزیشن اور ویب تھری (Web3) انفراسٹرکچر کا تبادلہ
ملاقاتوں کا ایک بڑا اور بنیادی محور ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک محفوظ اور ریگولیٹڈ ماحول قائم کرنے کے حوالے سے ہانگ کانگ کے عالمی تجربات سے فائدہ اٹھانا تھا۔ ہانگ کانگ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل فنانس حب مانا جاتا ہے جہاں مینوئل کسٹمز کے بجائے خودکار سوفٹ وئیرز کے ذریعے کھربوں ڈالرز کے ٹوکن ائزڈ اثاثوں کی منتقلی ہوتی ہے۔
دونوں ممالک کے وفود نے درج ذیل چار بڑے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مستقل تعاون کے اسٹرکچرل روڈ میپ پر اتفاق کیا:
فب ٹیک اور ویب تھری : پاکستان کے نوجوانوں کو ہانگ کانگ کی کمپنیوں کے ساتھ جوڑ کر کلاؤڈ بیسڈ فب ٹیک سلوشنز مینوفیکچر کرنا۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس : مالیاتی دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے اے آئی اسکیننگ اور سائنسی اینالیٹکس کا مشترکہ استعمال۔
سائبر سیکیورٹی: ڈیجیٹل والیٹس اور ٹوکن مارکیٹس کو ہیکرز سے محفوظ رکھنے کے لیے کیو آر کوڈ اور کرپٹوگرافک سوفٹ وئیرز کی مانیٹرنگ اپ گریڈ کرنا۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے عالمی ٹیک کمپنیوں کا کوریڈور
وزیرِ مملکت بلال بن ثاقب نے تاشقند فورم کے بعد ہانگ کانگ میں بھی پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹیلنٹ کا وژن پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی وی اے آر اے (PVARA) اسٹیٹ بینک (SBP) اور ایس ای سی پی (SECP) کے پائلٹ پراجیکٹس کے مطابق ایک ایسا کوریڈور بنا رہی ہے جس سے پاکستانی ڈویلپرز ہانگ کانگ کی بلاک چین مارکیٹ کے لیے سوفٹ ویئرز تیار کر سکیں گے۔ اس دورے کی کامیابی کے بعد بلال بن ثاقب کا دورہ ہانگ کانگ پاکستان کے اندر غیر ملکی فب ٹیک سرمایہ کاری لانے میں کلیدی ثابت ہوگا۔






