انسانی تاریخ، آثارِ قدیمہ اور آسمانی کتابوں میں مذکور سب سے بڑے تاریخی و مذہبی اسرار میں سے ایک یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے حوالے سے ایک سنسنی خیز اور بہت بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ ایک نامور ترک نژاد امریکی دفاعی سائنسدان اور جیو مینیجرز کے ماہر ڈاکٹر خسرو بختار نے جدید ترین زیرِ زمین امیجنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے مشرقی ترکیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع ایک مخصوص مقام پر کشتی نما ڈھانچے کے نیچے غیر معمولی سائنسی شواہد تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس تازہ سائنسی تحقیق نے دنیا بھر کے محققین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور مذہبی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ دریافت ترکیہ اور ایران کی سرحد کے قریب واقع مشہورِ زمانہ دوروپینار فارمیشن میں کی گئی ہے جو کہ دہائیوں سے کشتیٔ نوح کی ممکنہ آرام گاہ کے طور پر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
جدید راڈار ٹیکنالوجی کا استعمال اور پوشیدہ تہیں
ڈاکٹر خسرو بختار اور ان کی ٹیم نے اس خفیہ ڈھانچے کی اندرونی اسکیننگ کے لیے ایک خصوصی اور انتہائی جدید سب سرفیس امیجنگ سسٹم استعمال کیا ہے جسے بختار راڈار کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اصل میں امریکی فضائیہ کے لیے زمین دوز اسکیننگ اور خفیہ تہہ خانوں کا پتہ لگانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔
اس راڈار کے ذریعے حاصل ہونے والے ابتدائی ڈیٹا سے درج ذیل حیرت انگیز سائنسی اشارے ملے ہیں:
کثیر الجہتی اناملیز : زمین کے نیچے عام چٹانوں کے برعکس کئی غیر معمولی خلائی کوریڈورز اور مخصوص زاویوں پر مشتمل تہیں دریافت ہوئی ہیں۔
کمروں اور راہداریوں کا خاکہ: اسکیننگ سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کردہ 3D ماڈلز میں زمین کے نیچے تقریباً 20 فٹ کی گہرائی میں مستطیل نما دیواریں، سیدھی راہداریاں اور کمروں جیسے چیمبرز دکھائی دیے ہیں جو قدرتی چٹانیں نہیں لگتیں۔
ٹھوس چٹان کی عدم موجودگی: راڈار کا ڈیٹا زمین کے نیچے کسی ہموار یا قدرتی ٹھوس چٹان (Bedrock) کی موجودگی کو ظاہر نہیں کرتا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈھانچہ مصنوعی طور پر تیار کردہ ایک پیچیدہ مینوفیکچرنگ کا حصہ ہو سکتا ہے۔
دوروپینار فارمیشن کی تاریخ اور مذہبی و سائنسی اہمیت
دوروپینار سائٹ کی لمبائی تقریباً 515 فٹ (157 میٹر) ہے جو کہ تورات اور بائبل میں مذکور کشتیٔ نوح کی پیمائش (300 مصری کیوبٹس) کے بالکل عین مطابق ہے۔ یہ مقام 1959 میں ترک فضائیہ کے کیپٹن الہان دوروپینار نے فضائی تصاویر کی نقشہ سازی کے دوران دریافت کیا تھا۔
مقدس کتابوں بالخصوص قرآن مجید کی سورہ ھود (آیت 44) کے مطابق طوفانِ نوح کے بعد کشتی جودی پہاڑ پر جا کر ٹھہری تھی۔ ترکیہ کے اس مقامی علاقے (ماؤنٹ تیندوریک) کے قریبی پہاڑی سلسلے کو مقامی روایات کے مطابق جودی پہاڑ سے ہی منسوب کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مسلم محققین کے لیے بھی اس جگہ کی سائنسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مزید برآں، حال ہی میں امریکی تحقیقی گروپ نوح آرک اسکینز کے بانی اینڈریو جونز نے وہاں کی مٹی کے 88 نمونوں کی لیبارٹری ٹیسٹنگ کی جس میں نامیاتی مادوں اور گلی سڑی لکڑی کے کیمیائی اثرات پائے گئے ہیں۔
سائنسی برادری کا شکوک و شبہات اور گہری کھدائی کا اگلا مرحلہ
اس شاندار دریافت اور کشتی نوح کی دریافت کا دعویٰ سامنے آنے کے باوجود دنیا کے مین اسٹریم ماہرینِ ارضیات اور کلاسک ماہرینِ آثارِ قدیمہ اب بھی اس کے بارے میں کافی محتاط اور شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ زیادہ تر مینوئل سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ دوروپینار کی یہ مخصوص بناوٹ دراصل قدرتی طور پر مٹی کے بہاؤ، کٹاؤ اور لاوے کی چٹانوں کی حرکت کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے اور محض راڈار کی تصاویر سے اسے انسانی ساختہ جہاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ڈاکٹر خسرو بختار اور ان کی انٹرنیشنل ریسرچ ٹیم نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جب تک ترکیہ کی حکومت کی جانب سے باقاعدہ فزیکل کھدائی اور کور ڈرلنگ کی اجازت نہیں مل جاتی تب تک اس کی حتمی تصدیق ممکن نہیں ہے۔ ٹیم کا اگلا روڈ میپ یہ ہے کہ زمین کے نیچے 100 فٹ تک گہری سائنسی ڈرلنگ کر کے وہاں سے لکڑی یا کسی قدیم مینوفیکچرنگ مٹیریل کے مینوئل نمونے نکالے جائیں تاکہ کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے اس کی حقیقی عمر اور حقیقت کا پتہ لگایا جا






