پاکستان کو زرعی شعبے میں خودکفیل بنانے، اربوں ڈالر کے قیمتی زرمبادلہ کو بچانے اور ملکی زراعت کو جدید زرعی انڈسٹری میں تبدیل کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران باقاعدہ طور پر پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا اجراء کر دیا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان میں زیتون کی کاشت کی وسیع صلاحیتوں کو معاشی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت پر خوردنی تیل کی درآمدات کے بھاری بوجھ کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سالانہ 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل بیرونِ ملک سے امپورٹ کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہم مقامی سطح پر زیتون کی پیداوار بڑھا کر صرف ایک سال میں 40 کروڑ (400 ملین) ڈالر کی بھی بچت کر لیں تو یہ ملکی معیشت کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی کامیابی ہوگی۔
اٹلی کا 100 ملین ڈالر کا تعاون اور 70 لاکھ زیتون کے پودوں کا سنگِ میل
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں زیتون کی کاشت اور پیداوار کے فروغ میں تعاون کرنے پر اطالوی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں اٹلی کے سفیر اوگو چیارلاٹانی نے بتایا کہ اٹلی اور پاکستان کے مابین قائم سات دہائیوں پر محیط دیرینہ شراکت داری اب زراعت، سائنس، تعلیم، تجارت اور سیکیورٹی تک پھیل چکی ہے۔
اطالوی سفیر نے زیتون کے منصوبوں کی مالیاتی و تکنیکی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا:
ڈیٹ سویپ پروگرام: یہ نئی زیتون پالیسی دونوں ممالک کے مابین 100 ملین ڈالر کے پاکستان-اٹلی ڈیٹ سویپ پروگرام کے ثمرات کی عکاس ہے جس کی مدد سے ملک بھر میں زیتون کے وسیع باغات قائم کیے گئے۔
70 لاکھ پودوں کی کاشت: اس مشترکہ کنزرویشن مہم کے نتیجے میں اب پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد زیتون کے پودے موجود ہیں۔
سٹیک ہولڈرز کی تربیت: اٹلی کے ‘اولیو کلچر پروجیکٹ’ نے پاکستان میں جدید لیبارٹریوں، نرسریوں اور کاروباری گروپس کو سپورٹ کیا ہے جبکہ 700 سے زائد مقامی اسٹیک ہولڈرز کو خصوصی ٹریننگ دی گئی ہے۔
Prime Minister @CMShehbaz has launched the Pakistan National Olive Value Chain Policy, aimed at turning the country's olive potential into prosperity @PakPMO @GovtofPakistan @ItalyinPakistan @ForeignOfficePk #RadioPakistan #News https://t.co/eiOtBq2ETU pic.twitter.com/ej1x1fKwqt
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 24, 2026
100 زرعی گریجویٹس کو سرکاری خرچ پر اٹلی بھیجنے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے نوجوانوں کو جدید ترین زرعی مینوفیکچرنگ اور سائنسی مینوئل سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑے تعلیمی پیکیج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اپنے ذاتی اخراجات پر 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجے گی۔
یہ نوجوان اٹلی کے جدید زرعی مراکز میں جا کر زیتون کی کاشت، ہائی ٹیک پیداوار، آئل پروسیسنگ، کوالٹی ٹیسٹنگ اور بین الاقوامی مارکیٹنگ کے مختلف پہلوؤں کا عملی علم حاصل کریں گے۔ وطن واپسی پر یہ گریجویٹس پاکستان کی اولیو انڈسٹری کے لیے بطور مینیجرز اور ٹیکنیکل ایکسپرٹس کام کریں گے تاکہ مینوئل طریقوں کو ختم کر کے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا سکے۔
ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے 20 ملین یورو کا فنڈ اور معاشی اثرات
اطالوی سفیر نے مزید انکشاف کیا کہ اٹلی اس وقت پاکستان میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کی اپ گریڈیشن کے لیے 20 ملین یورو کے ایک جامع کیپیسٹی بلڈنگ پروگرام کی مالی معاونت بھی کر رہا ہے جس کا بڑا فوکس ہائی ویلیو ایگریکلچر بشمول زیتون کی کاشت ہے۔
اس نئی تعلیمی اور زرعی پالیسی کے نفاذ سے پاکستان کا زیتون کا شعبہ ایک منافع بخش ایگرو انڈسٹری میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف مقامی کسانوں، دیہی خواتین اور نوجوانوں کو روزگار کے ہزاروں نئے مواقع ملیں گے بلکہ پاکستان آنے والے چند سالوں میں خوردنی تیل کی پیداوار میں مکمل طور پر خودکفیل ہو جائے گا۔






