عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیتوں اور امن پسندی کا ایک اور بڑا اعتراف سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ (UN) کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے باقاعدہ طور پر پاکستان آرمی کے میجر جنرل جواد احمد قاضی (ہلالِ امتیاز ملٹری) کو ویسٹرن صحارا میں اقوام متحدہ کے امن مشن "MINURSO” کا نیا فورس کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مشن نے اس اہم ترین تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔ یہ تقرری بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات اور عالمی برادری کا پاک فوج کے پیشہ ورانہ معیار پر غیر متزلزل اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ میجر جنرل جواد احمد قاضی بنگلہ دیش کے میجر جنرل ایم ڈی فخر الاحسن کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے، جن کی مدتِ ملازمت 2 اگست 2026 کو مکمل ہو چکی ہے۔
میجر جنرل جواد احمد قاضی کا شاندار عسکری کیریئر اور تجربہ
میجر جنرل جواد احمد قاضی کا شمار پاکستان آرمی کے انتہائی قابل، تجربہ کار اور سوجھ بوجھ رکھنے والے افسران میں ہوتا ہے۔ وہ عسکری قیادت، کمانڈ اور آپریشنل امور کا 35 سال سے زائد کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، انہوں نے اپنے طویل کیریئر کے دوران ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی اہم ترین عہدوں پر فرائض سرانجام دیے ہیں:
وزارتِ دفاع میں ڈائریکٹر جنرل: وہ راولپنڈی میں وزارتِ دفاع کے اندر بطور ڈی جی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے ملک بھر کے تمام کینٹونمنٹ بورڈز اور لوکل گورننس کے انتظامی امور کی نگرانی کی۔
فورس کمانڈر ناردرن ایریاز : انہوں نے پاکستان کے تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم اور حساس ترین علاقے (شمالی علاقہ جات) میں فورس کمانڈر کے طور پر فرائض سرانجام دیے۔
انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ: وہ پاک فوج کے ایک اہم انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC) بھی رہ چکے ہیں۔
جی ایچ کیو میں خدمات: جنرل آفیسر جی ایچ کیو (GHQ) میں انسپکشن اینڈ ایویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر امن مشنز کا تجربہ ان کے لیے نیا نہیں ہے۔ اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں وہ کروشیا میں اقوام متحدہ کے عبوری انتظامی مشن (UNTAES) کا حصہ رہ کر گراؤنڈ پر آپریشنز کا عملی تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔
ویسٹرن صحارا میں پاک فوج کی کمان اور MINURSO مشن کا مقصد
مشن MINURSO (United Nations Mission for the Referendum in Western Sahara) کا قیام 1991 میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد ویسٹرن صحارا کے تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے استصوابِ رائے کی نگرانی کرنا اور خطے میں جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔
یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ویسٹرن صحارا میں اقوام متحدہ کے اس اہم مشن کی کمانڈ پاکستان کے کسی سینئر فوجی افسر کے سپرد کی گئی ہے۔ اس سے قبل میجر جنرل طیب اعظم 2015 میں اور بعد ازاں میجر جنرل ضیاء الرحمن بھی اس مشن کے فورس کمانڈر کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ افریقہ کے اس حساس ترین خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے پاکستانی کمانڈرز کی صلاحیتوں پر کتنا زیادہ انحصار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا تاریخی اور مثالی کردار
اقوام متحدہ کے تحت دنیا بھر کے شورش زدہ علاقوں میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ سے سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل رہا ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ امن دستے فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔
پاک فوج نے اب تک دنیا کے مختلف خطوں میں 48 سے زائد اقوام متحدہ کے امن مشنز میں 235,000 سے زائد اہلکار بھیجے ہیں جن میں 500 سے زائد خواتین افسران بھی شامل ہیں۔ عالمی امن کی اس خاطر اب تک پاک فوج کے درجنوں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے ہیں۔
میجر جنرل جواد احمد قاضی کی بطور فورس کمانڈر تقرری سے جہاں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے وہاں یہ عزم بھی دہرایا گیا ہے کہ پاکستان دنیا میں امن، بھائی چارے اور استحکام کے لیے اپنا مثبت اور قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔






