ملک میں منی لانڈرنگ ، ٹیکس چوری اور غیر دستاویزی معیشت کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک اہم اور دور رس فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک نے تمام شیڈولڈ سیکیورٹیز اور تجارتی بینکوں کے لیے نیشنل پرائز بانڈز کی خریداری، کیشنگ اور رپورٹنگ سے متعلق ریگولیٹری قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد پرائز بانڈز کے غیر قانونی استعمال کو روکنا ہے جنہیں طویل عرصے سے کالی دھن کو سفید کرنے اور ٹیکس نیٹ سے بچنے کے لیے ایک آسان ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
نئی ہدایات اور رپورٹنگ کا سخت ترین نظام
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب تمام بینک پابند ہوں گے کہ وہ پرائز بانڈز کی ہر قسم کی لین دین کا ایک مکمل اور شفاف ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھیں۔ نئے قوانین کے تحت مندرجہ ذیل اقدامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے:
۱۔ بائیومیٹرک تصدیق اور شناختی کارڈ کی شرط
اب کوئی بھی شہری کسی بھی بینک سے پرائز بانڈز خریدتے وقت یا انعامی رقم کا کلیم کرتے وقت اپنی بائیومیٹرک تصدیق کروانے کا پابند ہوگا۔ چوری شدہ یا فرضی شناختی کارڈز پر پرائز بانڈز کی کیشنگ کا راستہ مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
۲۔ روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا شیئرنگ
تجارتی بینک اب پرائز بانڈز کی خرید و فروخت کا ڈیٹا ہفتہ وار یا ماہانہ کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس سے مشکوک لین دین کو فوری طور پر ٹریک کرنا ممکن ہو سکے گا۔
۳۔ تھرڈ پارٹی کلیمز پر پابندی
ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ انعامی بانڈ نکلنے کی صورت میں بڑے سرمایہ دار ٹیکس سے بچنے کے لیے نقد رقم دے کر کسی دوسرے شخص سے وہ بانڈ خرید لیتے تھے۔ اسٹیٹ بینک نے اب تھرڈ پارٹی کلیمز پر سخت ترین ریگولیٹری شرائط عائد کر دی ہیں تاکہ انعامی رقم صرف اسی شخص کے اکاؤنٹ میں جائے جس کا بانڈ حقیقی طور پر نکلا ہو۔
منی لانڈرنگ اور فنانشل کرائمز کا خاتمہ
پاکستان طویل عرصے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے قوانین اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں (IMF) کی شرائط کے مطابق اپنے مالیاتی نظام کو دستاویزی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پرائز بانڈز چونکہ نقد رقم کی طرح مارکیٹ میں گردش کرتے ہیں، اس لیے انہیں بیرر انسٹرومینٹس کہا جاتا ہے جن کا ریکارڈ رکھنا مشکل ہوتا تھا۔
اسٹیٹ بینک کے ان نئے قوانین کے بعد بڑی مالیت کے بانڈز (جیسے 25,000 اور 40,000 روپے کے بانڈز جو پہلے ہی ڈیجیٹلائز ہو چکے ہیں) کے بعد اب چھوٹے بانڈز کی ٹرانزیکشنز کو بھی مکمل طور پر دستاویزی شکل دی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے جہاں کالی دھن کو چھپانا ناممکن ہو جائے گا، وہیں ملک کے ٹیکس ریونیو (FBR) میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
بینکوں کے لیے تعمیل نہ کرنے پر سخت سزائیں
مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ ان قوانین پر عمل نہ کرنے والے بینکوں اور ان کے عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کی انسپکشن ٹیمیں کسی بھی وقت بینک کی برانچوں کا اچانک آڈٹ کر سکتی ہیں۔ اگر کسی بینک برانچ میں پرائز بانڈز کی رپورٹنگ میں غفلت یا ڈیٹا چھپانے کی کوشش پائی گئی تو اس برانچ کا لائسنس معطل کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری مالیاتی جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ ان سخت اقدامات کا مقصد بینکنگ سیکٹر کے اندر شفافیت کو برقرار رکھنا اور ملکی معیشت کو بیرونی چیلنجز سے محفوظ بنانا ہے۔






