پاکستان کی اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں اس وقت 24 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں جو ملکی تاریخ کا ایک سنگین ترین بحران بن چکا ہے۔ انصاف میں تاخیر کا یہ جمود نہ صرف عام شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ملکی معیشت اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سنگین صورتحال میں قانونی ماہرین کی جانب سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اسمال کلیمز عدالتیں اور تنازعات کے متبادل حل (ADR) کا نظام پاکستان کا عدالتی نظام اور زیر التوا مقدمات کے اس بڑے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟
پاکستان کا عدالتی نظام اور زیر التوا مقدمات: بحران کی بنیادی وجوہات
پاکستان کی سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور بالخصوص ضلعی عدالتوں میں مقدمات کے انبار کی کئی اسٹرکچرل وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ ججوں کی شدید کمی ہے۔ پاکستان میں آبادی کے تناسب سے ججوں کی تعداد دنیا میں سب سے کم ترین سطح پر ہے۔ اس کے علاوہ فرسودہ نوآبادیاتی دور کے قوانین، دیوانی مقدمات کا طویل اور پیچیدہ طریقہ کاراور وکلاء کی جانب سے بار بار لی جانے والی تاریخیں اس تاخیر کو مزید طول دیتی ہیں۔ معمولی نوعیت کے مالیاتی یا جائیداد کے تنازعات جنہیں چند ہفتوں میں حل ہو جانا چاہیے سیشن عدالتوں میں دہائیوں تک لٹکے رہتے ہیں جس سے عدالتی نظام پر کام کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتا ہے۔
اسمال کلیمز عدالتیں کیا ہیں اور یہ کیسے کام کرتی ہیں؟
اسمال کلیمز اور مائنر آفینسز عدالتیں ایک ایسا خصوصی قانونی فورم ہیں جو معمولی مالیاتی تنازعات، کاروباری لین دین، کرایہ داری کے مسائل اور چھوٹے سول معاملات کو حل کرنے کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔
ان عدالتوں کی بنیادی خصوصیات درج ذیل ہیں:
محدود مالیاتی دائرہ اختیار: یہ عدالتیں صرف ایک مخصوص رقم (مثلاً 5 لاکھ یا 10 لاکھ روپے تک) کے مالیاتی دعووں کی سماعت کرتی ہیں۔
سادہ طریقہ کار: ان عدالتوں میں روایتی سول کورٹس کے برعکس طویل گواہیوں اور پیچیدہ ضابطہ دیوانی (CPC) کے سخت قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔
وقت کی پابندی: قانون کے مطابق ان عدالتوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ 60 سے 90 دنوں کے اندر مقدمے کا حتمی فیصلہ سنائیں۔
وکلاء کے بغیر سماعت: کئی ممالک میں ان عدالتوں میں فریقین کو اپنے کیس خود پیش کرنے کی اجازت ہوتی ہے، جس سے غریب طبقے کے وکلاء کی بھاری فیسوں کے اخراجات بچ جاتے ہیں۔
کیا اسمال کلیمز عدالتیں پاکستان کا نظام بدل سکتی ہیں؟
اگر پاکستان میں اسمال کلیمز آرڈیننس 2002 پر روح کے مطابق عمل کیا جائے اور ہر ضلع کی سطح پر فعال اسمال کلیمز اینڈ مائنر آفینسز کورٹس قائم کی جائیں تو اس کے دور رس نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سیشن اور سول ججوں پر سے 40 فیصد تک مقدمات کا بوجھ فوری طور پر کم ہو جائے گا، جس سے وہ سنگین نوعیت کے فوجداری اور بڑے دیوانی مقدمات پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔
تاہم اس نظام کی کامیابی کے لیے کونسلنگ، ثالثی اور جدید ٹیکنالوجی یعنی ای-کورٹس (E-Courts) کا انضمام لازمی ہے۔ جب تک معمولی تنازعات کو تھانے یا روایتی کچہری جانے سے پہلے ہی ان خصوصی عدالتوں میں فلٹر نہیں کیا جائے گا، تب تک پاکستان کا عدالتی نظام اور زیر التوا مقدمات کا دلدل اسی طرح برقرار رہے گا۔ حکومت اور عدلیہ کو چاہیے کہ وہ قانونی اصلاحات کے ذریعے اسمال کلیمز عدالتوں کو مالیاتی اور انتظامی طور پر خود مختار بنائیں۔






