وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) نے ملک میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے کے لیے نیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ انیشیٹو (NAAI) کے تحت 7 قومی اے آئی ہبز قائم کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا ہے حکومتِ پاکستان کا یہ انقلابی منصوبہ قومی اے آئی پالیسی کے نفاذ کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد روایتی سروسز پر مبنی معیشت کو جدید مصنوعات اور عالمی مسابقت پر مبنی ڈیجیٹل معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق ان ہبز کے قیام کے لیے باقاعدہ ریکوسٹ فار پروپوزل (RFP) جاری کر دیا گیا ہے تاکہ اکیڈمیا، انڈسٹری اور اسٹارٹ اپس کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جا سکے۔
پاکستان کے 7 بڑے شہروں میں انوویشن ہبز کا قیام
حکومتی دستاویزات کے مطابق، یہ جدید انفراسٹرکچر سینٹرز ملک کے سات اسٹریٹجک شہروں میں قائم کیے جائیں گے تاکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی یکساں مواقع میسر آ سکیں۔
ان ہبز کے لیے منتخب کردہ مقامات درج ذیل ہیں:
وفاقی دارالحکومت: اسلام آباد اے آئی انوویشن سینٹر
صوبائی دارالحکومتیں: لاہور، کراچی، پشاور، اور کوئٹہ
علاقائی مراکز: مظفرآباد (آزاد کشمیر) اور گلگت (گلگت بلتستان)
ان تمام ہبز میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، کمپیوٹیشنل پاور، جدید ترین ریسرچ لیبارٹریز اور اسٹارٹ اپس کے لیے ورکنگ اسپیس فراہم کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر ان مراکز کے انتظام کے لیے ایک سال کا معاہدہ کیا جائے گا، جسے کارکردگی کی بنیاد پر مزید بڑھایا جا سکے گا۔
560 اسٹارٹ اپس کی انکیوبیشن اور سیڈ گرانٹس کا منصوبہ
پاکستان میں قومی اے آئی ہبز کا یہ فریم ورک محض تربیتی مراکز تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی ہدف ایک مضبوط بزنس ایکو سسٹم بنانا ہے۔ حکومت نے اگلے دو سالوں کے دوران 560 اے آئی اسٹارٹ اپس کو انکیوبیٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان میں سے بہترین بزنس ماڈل اور آئیڈیاز رکھنے والے 150 اسٹارٹ اپس کو نان ڈیلیوٹو سیڈ گرانٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ فنڈز کی کمی کے بغیر اپنی پروڈکٹس مارکیٹ میں لا سکیں۔ ان اسٹارٹ اپس کو عالمی ٹیکنالوجی نیٹ ورکس، بین الاقوامی انکیوبیٹرز اور وینچر کیپیٹلسٹ سے بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان لا سکیں۔
زراعت، صحت اور فن ٹیک میں اے آئی ٹولز کا عملی استعمال
اس قومی مہم کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان ہبز کے ذریعے ایسے ڈیجیٹل سلوشنز تیار کیے جائیں گے جو پاکستان کے روایتی شعبوں کے مسائل کو حل کر سکیں۔
منصوبے کے تحت درج ذیل ترجیحی شعبوں پر کام کیا جائے گا:
ہیلتھ کیئر (صحت): بیماریوں کی قبل از وقت تشخیص اور طبی ڈیٹا کی کمپیوٹرائزڈ اسکریننگ۔
اسمارٹ ایگریکلچر (زراعت): مصنوعی ذہانت کے ذریعے فصلوں کی نگرانی، پانی کا بہتر استعمال اور پیداوار میں اضافہ۔
فن ٹیک اور فنانس: بینکنگ اور مالیاتی امور میں دھوکہ دہی کی روک تھام اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تحفظ۔
ایجوکیشن اور اسمارٹ سٹیز: تعلیمی نظام کی جدید کاری اور شہروں کے ٹریفک و سیکیورٹی نیٹ ورکس کو خودکار بنانا۔
وزارتِ آئی ٹی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس جامع حکمتِ عملی کے ذریعے 2030 تک پاکستان کے اے آئی سیکٹر میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لائی جائے گی جس کے لیے خواتین اور پسماندہ اضلاع کے ٹیلنٹ کی شمولیت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔






