فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیو ایشن، کراچی نے عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پالئیےسٹر فلامینٹ یارن کی امپورٹ ویلیو کا نیا کسٹمز ویلیو ایشن رولنگ جاری کر دیا ہے۔ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25A کے تحت جاری کردہ نئی رولنگ (نمبر 2101 آف 2026) نے پرانے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرتے ہوئے درآمدی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کا مقصد انڈر انوائسنگ کی روک تھام اور ڈیوٹی اسیسمنٹ کو عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
پالئیےسٹر فلامینٹ یارن کی امپورٹ ویلیو میں تبدیلی کا پس منظر
ایف بی آر کے کسٹمز حکام کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرو کیمیکل خام مال (خصوصاً PTA اور MEG) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی تنازعات اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کی وجہ سے امپورٹ لاگت بڑھ چکی تھی۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، مقامی مینوفیکچررز نے کسٹمز حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ پرانی ویلیو ایشن رولنگ (نمبر 2069) پر نظرثانی کی جائے کیونکہ موجودہ عالمی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور کم قیمت پر امپورٹ سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے اسٹیک ہولڈرز، بشمول امپورٹرز اور لوکل ٹیکسٹائل مینوفیکچررز،کے ساتھ تفصیلی مشاورتی اجلاس منعقد کیے۔ جہاں امپورٹرز کا مؤقف تھا کہ قیمتیں پہلے ہی زیادہ ہیں اور مزید اضافے سے ٹیکسٹائل لاگت بڑھے گی وہیں ایف بی آر نے درآمدی ڈیٹا اور مارکیٹ کے حقیقی رجحانات کا تجزیہ کرنے کے بعد قیمتوں کو ریوائز کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔
نئی کسٹمز ویلیو ایشن رولنگ کے اہم نکات
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز کے تحت تمام ممالک سے درآمد ہونے والے پالئیےسٹر فلامینٹ یارن پر یکساں ریٹس کا اطلاق ہوگا۔
نئے طریقہ کار کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
عالمی قیمتوں سے مطابقت: امپورٹ ویلیو کو پیٹرو کیمیکل مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا سے لنک کیا گیا ہے۔
ڈائیڈ یارن (Dyed Yarn) پر اضافی ڈیوٹی: نوٹیفکیشن کے مطابق ڈائیڈ یارن کی درآمد پر مقررہ C&F کسٹمز ویلیو کے اوپر 0.10 امریکی ڈالر فی کلوگرام اضافی رقم شامل کی جائے گی۔
انڈر انوائسنگ کا خاتمہ: اگر کوئی امپورٹر کسٹمز کی طے کردہ کم از کم قیمت سے زیادہ کی ڈیکلریشن دیتا ہے تو اسیسمنٹ اس کی اصل ٹرانزیکشن ویلیو پر ہوگی۔
کمپیوٹڈ ویلیو میتھڈ کا استعمال: ڈیٹا کی کمی کی صورت میں کسٹمز ایکٹ کے سیکشن 25(8) کے تحت خام مال کی لاگت کا حساب لگا کر ویلیو ایشن کی گئی ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل اور مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری پر اثرات
پاکستان میں کسٹمز ویلیو ایشن کے اس فیصلے کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ مقامی مینوفیکچررز نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اس سے ملکی سطح پر یارن تیار کرنے والے کارخانوں کو تحفظ ملے گا اور سستی امپورٹ کا راستہ بند ہوگا۔ تاہم کپڑا تیار کرنے والے برآمد کنندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ یارن مہنگا ہونے سے تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی جس سے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔






