مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن رخ اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل دسویں دن بھی شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں جس کے جواب میں ایران نے خلیج میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں اور سٹریٹجک تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے خطے میں امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے لیس نئی لہر داغنے کی تصدیق کرتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی جارحیت فوری طور پر نہ رکی تو آنے والے دن اس سے بھی زیادہ ہولناک ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ براہِ راست تصادم اب ایک مکمل علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
امریکہ کے مسلسل 10 روز سے جاری حملے اور تباہی کی تفصیلات
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایات پر امریکی لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں اور ڈرونز نے مسلسل دسویں رات بھی ایران کے اندر فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام (Air Defenses)، اور ساحلی نگرانی کی سائٹس کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان تازہ ترین حملوں کے دوران بندر عباس، قشم جزیرے، شیراز اور اصفہان کے علاقوں میں شدید دھماکے سنے گئے۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تجارتی جہاز رانی پر ایرانی خطرات کو کم کرنا اور گزشتہ دنوں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کا بدلہ لینا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق جولائی کے آغاز سے اب تک درجنوں امریکی فوجی زخمی اور متعدد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد امریکی صدر نے ایران کو بھاری قیمت چکانے کی دھمکی دی ہے۔
ایران کا جوابی حملہ: خلیج میں امریکی فوجی اثاثے تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی بمباری کے جواب میں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے خلیج فارس کے خطے میں موجود امریکی فوجی انفراسٹرکچر پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج میں امریکی فوجی اثاثے جیسے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (US Fifth Fleet) کا ہیڈ کوارٹر، کویت میں منا عبداللہ لاجسٹک ہب اور اردن میں امریکی فضائی ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی فورسز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق:
فضائی دفاعی نظام اور راڈار کی تباہی: بحرین اور کویت میں امریکی میزائل ڈیفنس راڈارز اور ایڈمنسٹریٹو عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانا: اردن کے فوجی ٹھکانوں میں موجود امریکی F-15 جنگی طیاروں اور ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرونز کے شیلٹرز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر حملہ: بحرین میں امریکی کمپنی ‘ایمیزون’ کے اس مرکزی ڈیٹا انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا جو امریکی فوجی آپریشنز کو سپورٹ فراہم کر رہا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جو اپنی سرزمین امریکی فوج کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کے لیے فراہم کر رہے ہیں وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز ہدف ہیں۔
عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات
اس شدید فوجی تصادم نے خلیجی ممالک کے شہری ڈھانچے کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جہاں کویت میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس (Desalination Plants) اور بجلی گھروں میں ایرانی میزائل لگنے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز پر بھی حملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یکدم 4 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے بھی ایران کی حمایت میں سعودی عرب کی بندرگاہوں کے مکمل بحری محاصرے کا اعلان کر دیا ہے جس سے عالمی توانائی کی سپلائی لائنز مکمل طور پر مفلوج ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ (UN) کے سیکرٹری جنرل نے دونوں ممالک کی جانب سے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات پر زور دیا ہے۔ تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ بیان کہ "ایران اب امریکہ کے ساتھ ایک مکمل جنگ میں ہے”، نے خطے میں قیامِ امن کی تمام امیدوں کو فی الحال دھندلا دیا ہے۔






