حکومتِ پنجاب نے صوبے میں پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے اور سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے تعلیمی وژن اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی سرپرستی میں 198 ملین (19.8 کروڑ) روپے کی لاگت سے پنجاب میں لائبریریز آن ویلز پروجیکٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اس منصوبے کا بنیادی مقصد اسکولوں میں روایتی کتابوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل لرننگ کے وسائل کو عام کرنا ہے تاکہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے بچے بھی جدید دور کے تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
اس آرٹیکل میں ہم اس موبائل لائبریری سسٹم کے مقررہ شیڈول، جدید ترین تکنیکی فیچرز (Tech Features) اور اسکولوں کے روٹس کا تفصیلی احاطہ کریں گے تاکہ اساتذہ اور والدین اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
لائبریریز آن ویلز کے جدید ترین تکنیکی فیچرز (Tech Features)
یہ پروجیکٹ عام لائبریریوں کی طرح صرف کتابوں کی الماریوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ جدید سائنسی اور ڈیجیٹل آلات سے لیس ایک اسمارٹ کلاس روم کی مانند ہے۔ ماحول دوست اقدامات کے تحت اس منصوبے میں درج ذیل فیچرز شامل کیے گئے ہیں:
85 الیکٹرک وہیکلز (EVs): اس پروجیکٹ کے لیے ماحول دوست 85 الیکٹرک گاڑیاں حاصل کی گئی ہیں جو فضائی آلودگی اور ایندھن کے اخراجات کو صفر پر لانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں
20 جدید ٹیبلٹس (Tablets) فی گاڑی: ہر موبائل وہیکل کے اندر 20 جدید ترین ٹیبلٹس نصب کیے گئے ہیں ان ٹیبلٹس میں بچوں کے لیے تعلیمی ایپس، سائنس اینیمیشنز اور ڈیجیٹل بکس پہلے سے لوڈڈ (Pre-loaded) ہیں۔
بڑی ایل ای ڈی (LED) اسکرینز: گاڑیوں پر بڑی سمارٹ ایل ای ڈی اسکرینیں لگائی گئی ہیں جن کی مدد سے اسکول کے گراؤنڈ میں بچوں کو انٹرایکٹو ویڈیوز، کارٹونز اور آڈیو بکس کے ذریعے پڑھایا جاتا ہے
اسکولوں میں چارجنگ پوائنٹس: گرین انرجی کو فروغ دینے کے لیے ان الیکٹرک گاڑیوں کی روزانہ چارجنگ کے لیے مخصوص سرکاری اسکولوں کے اندر ہی ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر قائم کیا گیا ہے
پروجیکٹ کے اہم مالیاتی اور تکنیکی اعداد و شمار
| پروجیکٹ کے پیرامیٹرز | مختص کردہ تفصیلات |
| مجموعی لاگت | 198 ملین روپے (Rs. 198 Million) |
| موبائل وہیکلز کی تعداد | 85 الیکٹرک گاڑیاں (EVs) |
| ٹیبلٹس فی وہیکل | 20 اینڈرائیڈ / آئی پیڈ ڈیوائسز |
| بنیادی ہدف | لاہور اور پنجاب کے دیگر سرکاری اسکول |
موبائل لائبریری کا شیڈول اور اسکول روٹ کے قوانین
پنجاب کے محکمہ تعلیم (School Education Department) نے اس منصوبے کو شفاف اور مربوط طریقے سے چلانے کے لیے ایک باقاعدہ روٹ اور ٹائم ٹیبل وضع کیا ہے:
1۔ "ون وہیکل، ون اسکول” فارمولا
مقررہ شیڈول کے تحت ایک گاڑی روزانہ صرف ایک اسکول کا دورہ کرتی ہے یہ گاڑی صبح اسکول کے اسمبلی ٹائم پر پہنچتی ہے اور چھٹی تک وہیں موجود رہتی ہے تاکہ پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کے تمام طلبہ کو باری باری لائبریری اور ٹیبلٹس کے استعمال کا پورا وقت مل سکے۔
2۔ اسکول روٹس کی تفصیلات (School Route Details)
ابتدائی مرحلے میں اس کا نیٹ ورک لاہور کے تمام بڑے ٹاؤنز (جیسے شالیمار، واہگہ، ماڈل ٹاؤن اور راوی ٹاؤن) کے سرکاری اسکولوں پر محیط ہے۔ روٹ پلان کے مطابق یہ گاڑیاں باری باری ان اسکولوں کا رخ کرتی ہیں جہاں کمپیوٹر لیبز یا باقاعدہ لائبریریوں کی سہولت موجود نہیں ہے۔ ہر ہفتے کے آخر میں محکمہ تعلیم نئے روٹس کا ڈیجیٹل چارٹ جاری کرتا ہے۔
بچوں کی ذہنی نشوونما پر اس پروجیکٹ کے اثرات
پڑھے گا تو بڑھے گا پاکستان کے وژن کے تحت کارٹونز اور رنگ برنگی پینٹنگز سے سجی یہ منی وینز بچوں میں اسکول آنے کا شوق پیدا کر رہی ہیں روایتی درسی کتابوں سے ہٹ کر جب بچے ٹیبلٹس پر سائنس کے تجربات دیکھتے ہیں اور انگریزی و اردو کے قاعدے اینیمیشنز کے ذریعے سیکھتے ہیں تو ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں واضح اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے اس کے ساتھ ہی جو بچے مستقل اسکولوں کا حصہ نہیں ہیں ان کے لیےاسکول آن ویلزکے تحت سولر رکشوں کے ذریعے گلی محلوں میں جا کر بھی مفت کتابیں اور تعلیمی کھلونے تقسیم کیے جا رہے ہیں
اگر آپ ایک سرکاری اسکول کے استاد یا طالب علم ہیں تو اپنے اسکول کے پرنسپل افس سے اس مہینے کے لائبریری آن ویلز روٹ شیڈول کی تصدیق لازمی کریں۔
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar کا رخ کریں۔






