پاکستان میں اپنا ذاتی گھر بنانا ہر تنخواہ دار اور مڈل کلاس شہری کی زندگی کا ایک سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔ ملک میں گھروں کی شدید کمی کو پورا کرنے اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (NAPHDA) کے تعاون سے ایک سبسڈائزڈ مارک اپ لون پروگرام چلا رکھا ہے جسے عام طور پر "میرا پاکستان میرا گھر” (MPMG) اسکیم کہا جاتا ہے۔
اس خودمختار سرکاری پروگرام کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے انتظامیہ نے اثاثوں کے ٹیرز (Tiers) کو مزید بہتر بنایا ہے جس کے تحت اب 10 مرلہ تک کی پراپرٹیز کے لیے قرض کی حد بڑھا کر 10 ملین (1 کروڑ) پاکستانی روپے کر دی گئی ہے۔ یہ اسکیم روایتی (Conventional) اور اسلامی (Islamic) دونوں طریقوں پر دستیاب ہے جو کمرشل اور مائیکروفنانس بینکوں کے ذریعے انتہائی کم اور کنٹرولڈ مارک اپ ریٹس پر فراہم کی جا رہی ہے۔ چاہے آپ تیار اپارٹمنٹ خریدنا چاہتے ہوں اپنے ذاتی پلاٹ پر تعمیرات کرنا چاہتے ہوں یا پہلے سے موجود گھر کو وسعت دینا چاہتے ہوں یہ گائیڈ آپ کو پاکستان کی افورڈ ایبل ہاؤسنگ اسکیم 2026 کے تحت قوانین، دستاویزات اور اقساط کے طریقہ کار کی مکمل تفصیلات فراہم کرے گی۔
فنڈز کی تقسیم اور پراپرٹی کے اسٹرکچرل ٹیرز (Tiers)
میرا پاکستان میرا گھر (MPMG) اسکیم کے تحت فنڈز کی تقسیم کو مختلف سماجی و اقتصادی طبقات اور منصوبوں کے حساب سے مخصوص ٹیرز (Tiers) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت فنڈز چار بنیادی کاموں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں: مکان/فلیٹ کی خریداری، پلاٹ خرید کر اس پر تعمیرات، پہلے سے ملکیتی پلاٹ پر گھر بنانا یا پہلے سے موجود گھر میں مزید کمروں کی توسیع۔
ٹیر 1 (Tier 1): نیفڈا (NAPHDA) کے مخصوص منصوبے
قرض کی زیادہ سے زیادہ حد: 2.7 ملین (27 لاکھ) روپے تک۔
پراپرٹی کا سائز: 125 اسکوائر یارڈ (5 مرلہ) تک کا رہائشی مکان، جس کا زیادہ سے زیادہ کورڈ ایریا 850 اسکوائر فٹ ہو۔ فلیٹ یا اپارٹمنٹ کی صورت میں بھی کورڈ ایریا کی حد 850 اسکوائر فٹ رکھی گئی ہے۔
پراپرٹی کی قیمت کی حد: کم لاگت کے اصول کو برقرار رکھنے کے لیے لون کی منظوری کے وقت سنگل ہاؤسنگ یونٹ کی کل مارکیٹ ویلیو 3.5 ملین (35 لاکھ) روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
ٹیر 2 اور ٹیر 3 (Tier 2 & 3): نان نیفڈا (عام مارکیٹ) کے منصوبے
ٹیر 2 (Tier 2): یہ ٹیر عام مارکیٹ میں موجود 5 مرلہ تک کے گھروں یا اپارٹمنٹس کے لیے مختص ہے۔ اس میں قرض کی رقم عام طور پر 1 ملین (10 لاکھ) سے شروع ہو کر 6 ملین (60 لاکھ) روپے تک جاتی ہے۔
ٹیر 3 (Tier 3) توسیع (10 مرلہ تک): یہ ٹیر خصوصی طور پر مڈل کلاس اور بڑے خاندانوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت شہری 10 مرلہ تک کے ہاؤسنگ یونٹس کے لیے 10 ملین (1 کروڑ) روپے تک کا بڑا قرض حاصل کر سکتے ہیں۔
رعایتی مارک اپ ریٹس اور ماہانہ اقساط کا شیڈول
اس اسکیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے مارک اپ پر بھاری سبسڈی دی جاتی ہے جو قرض لینے والے کو پہلے 10 سال تک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ (KIBOR ریٹس) سے محفوظ رکھتی ہے۔ صارفین اپنی سہولت کے مطابق 5 سے 20 سال تک کی واپسی کی مدت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
جون 2026ء کے تازہ ترین معاشی اشاریوں کے مطابق، اسٹیٹ بینک کا بینچ مارک کائبور (KIBOR) ریٹ 12.94 فیصد ہے، جس کے مقابلے میں حکومت کی یہ سبسڈائزڈ اسکیم انتہائی سستی ثابت ہوتی ہے۔ مارک اپ کے ریٹس درج ذیل ہیں:
پہلے 1 سے 5 سال: صارفین سے ٹیر 1 کے لیے صرف 3 فیصد اور ٹیر 2 و 3 کے لیے فکسڈ 5 فیصد سالانہ مارک اپ لیا جائے گا۔
اگلے 6 سے 10 سال: مارک اپ ریٹ بڑھ کر ٹیر 1 کے لیے فکسڈ 5 فیصد اور ٹیر 2 و 3 کے لیے 7 فیصد ہو جائے گا۔
باقی ماندہ مدت (11 سے 20 سال): یہ مدت مارکیٹ کے عام ریٹس پر منتقل ہو جائے گی جس کا حساب کائبور (KIBOR) پلس زیادہ سے زیادہ 250 بیسس پوائنٹس (bps) کے فارمولے سے لگایا جائے گا۔
متوقع ماہانہ اقساط (20 سالہ مدتِ قرض کے حساب سے)
| قرض کی کل رقم | ماہانہ قسط (پہلے 1 سے 5 سال) | ماہانہ قسط (6 سے 10 سال) | متعلقہ بریکٹ / ٹیر |
| 2.7 ملین روپے | 14,974 روپے | 17,147 روپے | ٹیر 1 (NAPHDA پروجیکٹس) |
| 3.0 ملین روپے | 19,799 روپے | 22,503 روپے | ٹیر 2 (عام مارکیٹ ہاؤس) |
| 6.0 ملین روپے | 39,597 / 46,518 روپے | 45,007 / 52,492 روپے | ٹیر 2 / ٹیر 3 کا موازنہ |
| 10.0 ملین روپے | 77,530 روپے | 87,487 روپے | ٹیر 3 (10 مرلہ میکسیمم) |
ہاؤسنگ اسکیم کے لیے اہلیت کا معیار (Eligibility)
اسٹیٹ بینک نے یہ یقینی بنانے کے لیے کہ اس سرکاری سبسڈی کا فائدہ صرف حقدار اور مڈل کلاس شہریوں تک پہنچے، درج ذیل شرائط مقرر کی ہیں:
شہریت: یہ اسکیم ان تمام پاکستانی شہریوں کے لیے ہے جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) یا اوورسیز پاکستانیوں کے لیے (NICOP) موجود ہو۔
پہلا گھر (First-time Owner): درخواست گزار کا ملک میں پہلا گھر ہونا لازمی ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی زندگی میں صرف ایک بار اس سبسڈائزڈ ہاؤسنگ لون کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
نیفڈا (NAPHDA) منصوبے: سرکاری سستے ہاؤسنگ پروجیکٹس کے لیے، نیفڈا خود اہل امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرتا ہے اور ان کی پروفائلز فنانسنگ کے لیے پارٹنر بینکوں کو فارورڈ کرتا ہے۔
ضروری دستاویزات اور فائلنگ کی تفصیلات
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے لون کی منظوری کے عمل کو تیز اور آسان بنانے کے لیے تمام کمرشل، اسلامی اور مائیکروفنانس بینکوں کے لیے لون ایپلی کیشن فارم، آفر لیٹر اور پراپرٹی دستاویزات کی لسٹ کو یکساں (اسٹینڈرڈائزڈ) کر دیا ہے۔
بنیادی قانونی دستاویزات (تمام آمدنی والے افراد کے لیے لازمی)
مکمل بھرا ہوا لون ایپلی کیشن فارم (LAF) مع سی ایف (CF) انڈرٹیکنگ۔
اصل دستخط شدہ پروڈکٹ ڈسکلوژر شیٹ (Product Disclosure Sheet)۔
درخواست گزار اور شریکِ حیات/پارٹنر (جہاں لاگو ہو) کے کارآمد شناختی کارڈ (CNIC) کی کاپیاں۔
درخواست گزار کی دو عدد پاسپورٹ سائز تازہ رنگین تصاویر۔
پہلے گھر کا مالک ہونے کا اصل قانونی حلف نامہ (Undertaking)۔
جس پراپرٹی کو رہن (Mortgage) رکھنا ہے اس کے ملکیتی کاغذات (رجسٹری، فرد، الاٹمنٹ لیٹر یا ٹرانسفر ڈیڈ) کی کاپیاں۔
آمدنی کی تصدیق کا طریقہ کار (Income Proof)
باقاعدہ تنخواہ دار طبقہ (Salaried Persons): اصل جاب سرٹیفکیٹ یا ایمپلائمنٹ لیٹر، حالیہ سیلری سلپس (جو 60 دن سے پرانی نہ ہوں تصدیق کے بعد آن لائن/ای سیلری سلپس بھی بغیر اسٹیمپ کے قابلِ قبول ہیں) اور اکاؤنٹ مینٹیننس سرٹیفکیٹ مع پچھلے 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جس میں تنخواہ منتقل ہونے کا ثبوت موجود ہو۔
باقاعدہ بزنس مالکان (Formal Business): کاروبار کا مستند ثبوت، ٹیکس رجسٹریشن پروف، این ٹی این (NTN) سرٹیفکیٹ اور کم از کم 6 سے 12 ماہ کی تصدیق شدہ بزنس بینک اسٹیٹمنٹ۔
غیر رسمی یا غیر دستاویزی آمدنی والے افراد (Informal Income): ایسے افراد جن کے پاس تنخواہ کی سلپ یا بزنس اسٹیٹمنٹ نہیں ہوتی (جیسے دکاندار، دیہاڑی دار یا فری لانسرز)، ان کے لیے بینکوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک کے تیار کردہ سمارٹ اسکور کارڈ اور انکم پراکسی ماڈل کا استعمال کریں۔ اس کے تحت صارف کے موبائل فون بلز، یوٹیلیٹی بلز اور روزمرہ کے اخراجات کے پیٹرن کو دیکھ کر آمدنی کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور انہیں روایتی انکم سلپ جمع کرانے سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
شکایات کا ازالہ اور اسٹیٹ بینک کے ہیلپ ڈیسک
قرضے کی فراہمی میں بینکوں کی طرف سے تاخیر یا بلاوجہ کی رکاوٹیں روکنے کے لیے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک مرکزی آن لائن کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم قائم کیا ہے جس کے تحت بینکوں پر لازم ہے کہ وہ موصول ہونے والی شکایت کو زیادہ سے زیادہ 8 ورکنگ ڈیز (کام کے دنوں) میں حل کریں۔
اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک نے ملک بر میں اپنے 16 بی ایس سی (BSC) دفاتر میں خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیے ہیں۔ یہ فزیکل ڈیسک ان شہریوں کی مدد کرتے ہیں جنہیں ٹیکنالوجی یا زبان کی رکاوٹ کے باعث آن لائن پورٹل استعمال کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے تاکہ ہر عام شہری بینک مینیجرز کی بے جا سختی کے خلاف اپنی شکایت باآسانی درج کروا سکے۔






