محکمہ داخلہ پنجاب نے عید الاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر امن و امان کی صورتحال اور عوامی صحت و صفائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب حکومت کی پابندیاں 27 مئی سے 2 جون 2026 تک صوبے کے تمام اضلاع میں سختی سے نافذ العمل رہیں گی ۔ ان پابندیوں کا مقصد عید کے دوران سڑکوں پر گندگی، ٹریفک کی روانی میں خلل اور عوامی مقامات پر پیدا ہونے والے تعفن کو روکنا ہے جو شہریوں کے لیے ذہنی اور جسمانی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
اگر آپ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان یا پنجاب کے کسی بھی دوسرے شہر میں مقیم ہیں تو عید کی تیاریاں کرنے سے پہلے ان سرکاری احکامات سے واقف ہونا آپ کے لیے بے حد ضروری ہے تاکہ آپ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی یا جرمانے سے بچ سکیں۔
دفعہ 144 کے تحت ممنوعہ سرگرمیوں کی تفصیلات
حکومت پنجاب نے عید الاضحیٰ کے دوران درج ذیل مخصوص سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی ہے جنہیں پبلک نیوسنس (عوامی پریشانی) قرار دیا گیا ہے:
عوامی مقامات پر سری پائے جلانے پر پابندی: عید کے دنوں میں سڑکوں کے کنارے یا چوک چوراہوں پر قربانی کے جانوروں کے سر اور پائے (سری پائے) بھوننے یا جلانے پر مکمل روک لگا دی گئی ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والا زہریلا دھواں اور بو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتی ہے۔
آبی ذخائر میں نہانے اور تیرکی پر پابندی: عید کی تعطیلات کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد نہروں، دریاؤں، جھیلوں اور ڈیموں کا رخ کرتی ہے۔ حادثات اور ڈوبنے کے واقعات سے بچنے کے لیے ان تمام مقامات پر نہانے اور تیرکی پر سخت پابندی ہوگی۔
قربانی کی اوجڑی اور فضلہ نالوں میں پھینکنے پر پابندی: جانوروں کی آلائشیں، اوجڑی یا فضلہ مین ہولز، سیوریج لائنوں، ندی نالوں یا کھلی سڑکوں پر پھینکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صفائی کا نظام برقرار رکھنے کے لیے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے فراہم کردہ مخصوص بیگز اور پوائنٹس کا استعمال لازمی ہے۔
غیر قانونی مویشی منڈیاں: حکومت کی جانب سے نوٹیفائیڈ (منظور شدہ) مویشی منڈیوں کے علاوہ شہر کے اندر گلی محلوں یا رہائشی علاقوں میں جانوروں کی خرید و فروخت اور عارضی چوکیاں قائم کرنے پر پابندی عائد ہے۔
قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق عید پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے عمل کو بھی ریگولیٹ کیا گیا ہے۔ کوئی بھی کالعدم یا غیر رجسٹرڈ تنظیم کھالیں جمع کرنے کی اہل نہیں ہوگی۔ صرف وہی فلاحی ادارے کھالیں اکٹھی کر سکتے ہیں جو Punjab Charity Commission کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں اور جنہیں ضلعی انتظامیہ سے این او سی (NOC) جاری کیا گیا ہو۔
مزید برآں تفریحی پارکس کے حوالے سے بھی پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ عید کے دنوں میں پارکس میں غیر تصدیق شدہ عارضی مشینی جھولے لگانے کی اجازت نہیں ہوگی تاکہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے
آپ کے شہر میں ان احکامات پر عملدرآمد کیسے ہوگا؟
پنجاب کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز (DCs) اور اسسٹنٹ کمشنرز (ACs) کو پولیس کے ہمراہ ان احکامات پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اگر کوئی شہری ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت اس کے خلاف فوری ایف آئی آر (FIR) درج کی جائے گی اور بھاری جرمانہ یا قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ تمام مروجہ قوانین کی تفصیلات آپ حکومتِ پاکستان کے آفیشل پورٹل Punjab Laws Site پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔یہ پنجاب حکومت کی پابندیاں عارضی طور پر شہریوں کی ہیلتھ اور سیفٹی کے لیے لگائی گئی ہیں۔ عید الاضحیٰ کی خوشیوں کو دوبارہ دوبالا کرنے اور اپنے شہر کو صاف رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔
مزید اہم خبروں اور تازہ اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






