پاکستان میں اپنا گھر بنانا اب ایک خواب نہیں رہا۔ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے اپنے فلیگ شپ پروگرام وزیراعظم اپنا گھر پروگرام (Ghar Ho Tu Apna) کے تحت ترمیم شدہ ہاؤسنگ فنانس پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کم لاگت ہاؤسنگ لون کی حد کو بڑھا کر 10 ملین (1 کروڑ) روپے کر دیا گیا ہے اور سب سے بڑی ریلیف یہ ہے کہ اب یہ قرض فلیٹ 5% مارک اپ ریٹ پر دستیاب ہوگا۔
اگر آپ بھی کرائے کے گھر سے تنگ ہیں اور اپنا ذاتی مکان یا فلیٹ خریدنا چاہتے ہیں تو یہ تفصیلی گائیڈ آپ کو درخواست دینے کے مرحلہ وار طریقہ کار سے آگاہ کرے گی۔
اسکیم کی اہم خصوصیات اور نئے قوانین
حکومتی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کی منظوری کے بعد اس اسکیم میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے فنانسنگ کو آسان بنایا جا سکے۔
قرض کی حد: پہلے یہ حد بہت کم تھی لیکن اب اسے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 10 ملین (1 کروڑ) روپے تک کر دیا گیا ہے۔
مارک اپ ریٹ: حکومت نے شرح سود (مارک اپ) کو 8 فیصد سے کم کر کے یکساں فلیٹ 5 فیصد کر دیا ہے۔ یہ فکسڈ ریٹ پہلے 10 سال کے لیے لاگو ہوگا۔
قرض کی مدت: اس قرض کی واپسی زیادہ سے زیادہ 20 سال کی آسان اقساط میں کی جا سکتی ہے۔
پراپرٹی کا سائز: اس اسکیم کے تحت آپ 10 مرلہ تک کا گھر یا پلاٹ، یا 1500 اسکوائر فٹ کورڈ ایریا کا فلیٹ/اپارٹمنٹ خرید سکتے ہیں۔
بینک فنانسنگ کا تناسب: بینک آپ کو پراپرٹی کی کل قیمت کا 90 فیصد فراہم کرے گا جبکہ صرف 10 فیصد رقم (ڈاؤن پیمنٹ) درخواست گزار کو خود ادا کرنی ہوگی۔
Finance Minister Chairs ECC Meeting, Approves Key Sectoral Initiatives and Technical Supplementary Grants
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) May 5, 2026
The Economic Coordination Committee (ECC) of the Cabinet met today at the Finance Division under the chairmanship of the Federal Minister for Finance and Revenue, Senator… pic.twitter.com/BgoB1o1eEz
درخواست دینے کے لیے اہلیت کا معیار
یہ قرض ہر کسی کو نہیں مل سکتا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے قوانین کے مطابق صرف وہی افراد اہل ہیں جو درج ذیل معیار پر پورا اترتے ہوں:
پہلی بار گھر کے مالک: درخواست گزار کا پاکستان میں پہلے سے کوئی ذاتی رہائشی مکان نہیں ہونا چاہیے۔
شناختی کارڈ ہولڈر: درخواست گزار کا پاکستانی شہری ہونا اور کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) رکھنا لازمی ہے۔
آمدنی کا ذریعہ: تنخواہ دار طبقہ (Salaried)، کاروباری افراد (Self-Employed) اور وہ لوگ جن کی آمدنی غیر رسمی (Informal Income) ہے سبھی اس کے لیے اہل ہیں۔
درخواست دینے کا طریقہ کار
اس ترمیم شدہ کم لاگت ہاؤسنگ لون کے لیے درخواست دینے کا عمل انتہائی شفاف اور تیز تر بنا دیا گیا ہے جس کی حتمی منظوری 30 دن کے اندر دی جاتی ہے:
آفیشل پورٹل پر رجسٹریشن
سب سے پہلے حکومت پاکستان کے مخصوص کردہ اپنا گھر آن لائن پورٹل یا وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اپنی بنیادی معلومات، شناختی کارڈ نمبر اور رابطہ نمبر درج کر کے اکاؤنٹ بنائیں۔
بینک کا انتخاب اور دستاویزات کی تیاری
آن لائن ابتدائی جانچ کے بعد آپ پاکستان کے کسی بھی بڑے تجارتی بینک، اسلامی بینک یا ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی (HBFC) کی قریبی شاخ کا دورہ کر سکتے ہیں۔ آپ کو درج ذیل دستاویزات ساتھ لے کر جانی ہوں گی:
مکمل شدہ لون ایپلیکیشن فارم
شناختی کارڈ (CNIC) کی کاپیاں اور پاسپورٹ سائز تصاویر
تنخواہ کی پرچی (Salary Slip) یا کاروباری ثبوت (Business Proof)
گزشتہ 6 ماہ یا 1 سال کا بینک اسٹیٹمنٹ
پراپرٹی کے کاغذات (اگر آپ نے پہلے سے کوئی پلاٹ یا گھر منتخب کر رکھا ہے)
بائیو میٹرک اور تصدیق
بینک آپ کی فراہم کردہ معلومات اور نادرا (NADRA) کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کرے گا۔ اس اسکیم کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ درخواست جمع کرواتے وقت بینک کوئی پروسیسنگ فیس یا پوشیدہ چارجز وصول نہیں کرے گا۔
قرض کی منظوری اور ادائیگی
تمام دستاویزات اور پراپرٹی کی قانونی تصدیق کے بعد بینک لون کی حتمی منظوری دے گا۔ 90 فیصد رقم بینک براہ راست پراپرٹی سیلر یا بلڈر کو منتقل کر دے گا اور آپ کا ماہانہ قسطوں کا شیڈول شروع ہو جائے گا۔
ماہانہ قسط کا تخمینہ (Expected Monthly Installments)
اس اسکیم کے تحت قرض کی مختلف حدود کے لیے متوقع ماہانہ قسط کچھ یوں ہوگی:
25 لاکھ روپے کا قرض: تقریباً 16,499 روپے ماہانہ قسط۔
50 لاکھ روپے کا قرض: تقریباً 32,997 روپے ماہانہ قسط۔
1 کروڑ (10 ملین) روپے کا قرض: تقریباً 65,996 روپے ماہانہ قسط۔ حکومت کا یہ کم لاگت ہاؤسنگ لون ہر اس پاکستانی کے لیے سنہری موقع ہے جو کرائے کے گھر کے برابر رقم قسط کی صورت میں ادا کر کے اپنے ذاتی گھر کا مالک بننا چاہتا ہے۔ دیر نہ کریں، اپنے قریبی بینک سے رجوع کریں اور اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔
مزید الرٹس اور تازہ اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






