اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی کی خبریں
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی نیوز
  • بین اقوامی خبریں
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر
  • آج سونے کی قیمت

بلیو پاسپورٹ بل 2026: سینیٹرز کے لیے نئی سہولت، بچوں پر پابندی اور غلط استعمال کا اسکینڈل

بلال رشید by بلال رشید
مئی 14, 2026
in اہم خبریں, سیاست کی خبریں, علاقائی خبریں, قومی نیوز
بلیو پاسپورٹ بل 2026

اسلام آباد میں ایوان بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حال ہی میں ایک اہم قانون سازی کرتے ہوئے بلیو پاسپورٹ بل 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کا مقصد پاکستان کے سینیٹرز کو تاحیات سرکاری (آفیشل) پاسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ تاہم اس سہولت کے دائرہ کار کو سینیٹرز کے بچوں تک بڑھانے کی تجویز پر شدید بحث ہوئی اور وزارت داخلہ نے اس کی مخالفت کی۔

اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ نیلا پاسپورٹ اصل میں کسے ملتا ہے اس کے فوائد کیا ہیں اور حالیہ دنوں میں اس کے غلط استعمال کے کون سے بڑے اسکینڈلز سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔

بلیو پاسپورٹ بل 2026 کے اہم نکات

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹرز کے لیے سرکاری پاسپورٹ کے حوالے سے مندرجہ ذیل اہم فیصلے کیے گئے:

سینیٹرز کے لیے تاحیات سہولت: نئے بل کے تحت تمام حاضر سروس اور ریٹائرڈ سینیٹرز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف ان اراکین کو ملتی تھی جو اپنی مدت پوری کرتے تھے لیکن اب مدت مکمل نہ کرنے والے سینیٹرز بھی اس کے اہل ہوں گے۔

بچوں کے لیے تجویز مسترد: بل میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ سینیٹرز کے بچوں کو بھی 28 سال کی عمر تک بلیو پاسپورٹ دیا جائے۔ تاہم وزارت داخلہ نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کا عندیہ دیا ہے کیونکہ ماضی میں اس شق کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرتارپور ہماری مذہبی  آزادی کو ظاہر کرتا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ

سرکاری پاسپورٹ کی اقسام اور اہلیت کے معیارات جاننے کے لیے آپ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

بلیو پاسپورٹ کیا ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں؟

پاکستان میں پاسپورٹ کی تین بڑی اقسام ہیں:

سبز پاسپورٹ: عام شہریوں کے لیے۔

نیلا پاسپورٹ (Official Passport):

 یہ سرکاری افسران، ججز، بیوروکریٹس اور ممبران پارلیمنٹ کو دیا جاتا ہے۔

سرخ پاسپورٹ (Diplomatic Passport):

 یہ سفارت کاروں اور اعلیٰ ترین ریاستی عہدیداران کے لیے مخصوص ہے۔

بلیو پاسپورٹ کے فوائد:

بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو دنیا کے کئی ممالک میں ویزا کے حصول میں آسانی ہوتی ہے۔ کچھ ممالک کے ساتھ سرکاری سطح پر معاہدوں کے تحت بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کو ویزا فری انٹری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹس پر امیگریشن کا عمل بھی عام پاسپورٹ کی نسبت تیز ہوتا ہے۔

بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال: پناہ گزینی (Asylum) کے کیسز

کمیٹی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیا:

رکن قومی اسمبلی کے بیٹے کا کیس: ایک ایم این اے (MNA اقبال آفریدی) کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے یورپ کا سفر کیا اور وہاں پہنچ کر اٹلی میں سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواست دائر کر دی۔ اس عمل نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جب ایسے سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد دوسرے ممالک میں جا کر پناہ مانگتے ہیں تو وہ ممالک پاکستان کے ساتھ ویزا فری معاہدے (MoUs) کرنے سے کتراتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  قاری کی حمایت: خاموشی کو برقرار رکھنے والے اعلی حکام

موجودہ اعدادوشمار اور حکومتی اقدامات

سینیٹر عبد القادر کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً 60,000 افراد کے پاس بلیو پاسپورٹ موجود ہیں جن میں زیادہ تر بیوروکریٹس اور ججز شامل ہیں۔ حکومت نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اس تعداد کو کم کیا جائے گا اور قوانین کو سخت کیا جائے گا تاکہ صرف واقعی حقدار افراد ہی یہ مراعات حاصل کر سکیں۔

مزید برآں سینیٹ آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق نئے ترامیم کا مقصد اعلیٰ عہدیداران کے درمیان یکسانیت (Parity) لانا ہے۔بلیو پاسپورٹ بل 2026 سینیٹرز کے لیے تو خوشخبری لایا ہے لیکن اس نے سرکاری مراعات کے غلط استعمال پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اس سہولت کو صرف سرکاری ڈیوٹی تک محدود رکھا جائے تاکہ اسے ذاتی فائدے یا بیرون ملک فرار ہونے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

بلال رشید

بلال رشید

بلال رشید ایک شہری امور اور سیاسی تجزیہ کار ہیں جو مقامی طرزِ حکمرانی اور شہری ترقی کے معاملات پر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں شہروں کی منصوبہ بندی، بلدیاتی سیاست اور عوامی مفاد سے متعلق موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

میرا لیاری فلم

میرا لیاری فلم سینما گھروں سے ہٹا دی گئی: پاکستان کی سب سے زیادہ ہائپ والی ایکشن فلم 24 گھنٹوں میں کیوں فلاپ ہوئی؟

مئی 14, 2026
بنو بینک وین ڈکیتی

بنو بینک وین ڈکیتی: عسکریت پسندوں کا 80 ملین روپے کا بڑا ڈاکہ اور کاروباری اداروں کے لیے نئے حفاظتی قوانین

مئی 14, 2026
پنجاب فری لینڈ اسکیم

پنجاب فری لینڈ اسکیم: بے گھر شہریوں کے لیے مفت زمین اور رہائشی فلیٹس کا بڑا حکومتی اعلان

مئی 14, 2026
ایچ ای سی ڈگری تصدیق فیس

ایچ ای سی ڈگری تصدیق فیس میں بھاری اضافہ: نیا آن لائن ڈیجیٹل سسٹم اور ادائیگی کا طریقہ کار

مئی 14, 2026
بلیو پاسپورٹ بل 2026

بلیو پاسپورٹ بل 2026: سینیٹرز کے لیے نئی سہولت، بچوں پر پابندی اور غلط استعمال کا اسکینڈل

مئی 14, 2026
پاکستانی پاسپورٹ رینکنگ

پاکستانی پاسپورٹ رینکنگ 2026: عالمی درجہ بندی میں تنزلی اور 30 ویزا فری ممالک کی فہرست

مئی 14, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

میرا لیاری فلم

میرا لیاری فلم سینما گھروں سے ہٹا دی گئی: پاکستان کی سب سے زیادہ ہائپ والی ایکشن فلم 24 گھنٹوں میں کیوں فلاپ ہوئی؟

مئی 14, 2026
بنو بینک وین ڈکیتی

بنو بینک وین ڈکیتی: عسکریت پسندوں کا 80 ملین روپے کا بڑا ڈاکہ اور کاروباری اداروں کے لیے نئے حفاظتی قوانین

مئی 14, 2026
پنجاب فری لینڈ اسکیم

پنجاب فری لینڈ اسکیم: بے گھر شہریوں کے لیے مفت زمین اور رہائشی فلیٹس کا بڑا حکومتی اعلان

مئی 14, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.

ہم کوکیز استعمال کرتے ہیں تاکہ ہم آپ کو ہماری ویب سائٹ پر بہترین تجربہ فراہم کریں۔ اگر آپ اس سائٹ کا استعمال جاری رکھتے ہیں تو ہم اس بات کو قبول کریں گے کہ آپ اس سے خوش ہیں۔