پاکستان سپر لیگ کا گیارہواں سیزن (PSL 11) باضابطہ طور پر اپنے سنسنی خیز اختتام کو پہنچ چکا ہے جس نے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو جوش و خروش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جہاں اس ٹورنامنٹ میں قائم شدہ بین الاقوامی سپر اسٹارز اور سخت حریف ٹیموں کے درمیان زبردست مقابلے دیکھنے کو ملے وہیں شائقین کے درمیان ایک بڑا سوال اور تجسس پیدا ہو چکا ہے: پی ایس ایل 11 کا بہترین کھلاڑی کون قرار پایا ہے؟
اس کا جواب پشاور زلمی کے ایک نوجوان جادوئی بائیں ہاتھ کے کلائی کے اسپنر ہیں جن کا نام سفیان مقیم ہے۔ ان کی جادوئی باؤلنگ نے نہ صرف دنیا کے بہترین بلے بازوں کو مکمل طور پر بے بس کر دیا بلکہ پشاور زلمی کے لیے دوسری بار پی ایس ایل ٹرافی جیتنے میں سب سے اہم کردار بھی ادا کیا۔ آئیے ان غیر معمولی اعداد و شمار اور حقائق پر گہری نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے انہیں اس باوقار تاج کا حقدار بنایا۔
جادوئی اسپیل: سفیان مقیم نے یہ تاج کیسے جیتا؟
آخر ایک نوجوان اسپنر نے بڑے بڑے بین الاقوامی ستاروں کو پیچھے چھوڑ کر سیزن کا سب سے بڑا اعزاز کیسے حاصل کیا؟ ان کے اس سیزن کے اعداد و شمار ان کی مستقل مزاجی کی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ سفیان مقیم ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر بن کر ابھرے جس نے تماشائیوں اور ماہرینِ کرکٹ کو حیرت میں ڈال دیا۔
ان کے شاندار ٹورنامنٹ کے ریکارڈز پر ایک نظر ڈالیں:
مجموعی وکٹیں: صرف 11 میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کیں۔
باؤلنگ اوسط: ایک شاندار 14.40 کی اوسط۔
اکانومی ریٹ: انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ 7.20 کا اکانومی ریٹ۔
اسٹرائیک ریٹ: 12.0 (یعنی اوسطاً ہر دو اوورز کے بعد ایک وکٹ)۔
بہترین باؤلنگ: ایک میچ میں 32 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کرنا۔
اس تاریخی کارکردگی کی وجہ سے انہیں سب سے زیادہ وکٹیں لینے پر باوقار ‘فضل محمود کیپ’ اور ‘باؤلر آف دی ٹورنامنٹ’ کے ایوارڈز سے نوازا گیا۔
Best Bowler and player of the Tournament award goes to Sufyan Moqim as he dominates #HBLPSL11 with stellar performances ☄️#NewEra pic.twitter.com/iJR6kV6pvL
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) May 3, 2026
کیا بابر اعظم نے کوئی بڑا ایوارڈ جیتا؟
سفیان مقیم کے سرفہرست کھلاڑی بننے کے بعد بہت سے شائقین یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کیسی کارکردگی دکھائی۔ فائنل میچ میں صفر پر آؤٹ ہونے کی مایوسی کے باوجود بابر اعظم کے لیے یہ سیزن رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے جیسا رہا۔
انہوں نے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کے طور پر ‘حنیف محمد کیپ’ اور ‘بیٹر آف دی ٹورنامنٹ’ کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ بابر اعظم نے 11 میچوں میں 73.50 کی شاندار اوسط اور 145.90 کے خطرناک اسٹرائیک ریٹ سے مجموعی طور پر 588 رنز بنائے، جس میں تین شاندار سنچریاں بھی شامل تھیں۔
دیگر کون سے انفرادی اعزازات دیے گئے؟
پشاور زلمی کا کیمپ صرف ٹرافی ہی گھر نہیں لے گیا بلکہ انہوں نے انفرادی ایوارڈز کی تقریب میں بھی مکمل حکمرانی قائم کی:
ٹورنامنٹ کے بہترین وکٹ کیپر: کوسل مینڈس (پشاور زلمی) نے 550 رنز بنانے اور وکٹوں کے پیچھے دو شکار کرنے پر یہ اعزاز حاصل کیا۔
ٹورنامنٹ کے بہترین فیلڈر: فرحان یوسف (پشاور زلمی) نے گراؤنڈ پر بہترین چستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 کیچز پکڑ کر یہ ایوارڈ اپنے نام کیا۔ٹورنامنٹ کے بہترین آل راؤنڈر: یہ واحد بڑا ایوارڈ تھا جو زلمی کے ہاتھ نہ آ سکا۔ یہ اعزاز اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کو ملا جنہوں نے 173 رنز بنائے اور 17 وکٹیں حاصل کیں۔
مزید تازہ خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






